تاثیر 2 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
فٹبال کا سب سے بڑا میلہ، فیفا ورلڈ کپ، 2026 اپنے 48 ٹیموں والے توسیعی فارمیٹ کے ساتھ تاریخ رقم کر رہا ہے۔ گروپ اسٹیج کے بعد راؤنڈ آف 32 میں داخل ہوتے ہی ٹورنامنٹ نے وہ سنسنی خیز موڑ اختیار کر لیا ہے ، جسے دیکھنے کا انتظار فٹبال کے شائقین برسوں سے کرتے آرہے ہیں۔ پہلے 32 ٹیموں کے دور میں راؤنڈ آف 16 سے ناک آؤٹ شروع ہوتا تھا، مگر اب 48 ٹیموں کی شرکت نے مقابلوں کی سنسنی میں اضافہ کر دیا ہے۔ نتیجتاً بڑی ٹیمیں جلدی باہر ہو رہی ہیں اور کمزور سمجھی جانے والی ٹیمیں تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ اکثر آخری لمحات میں پلٹنے والے میچوں نے فینز کے دل دھڑکا رکھے ہیں۔
اب تک راؤنڈ آف 32 کے متعدد مقابلوں میں ڈرامہ، الٹ پھیر اور ہیرو بنتے کھلاڑی نظر آتے رہے ہیں۔جرمنی جیسی چار بار کی چیمپئن پنالٹی شُوٹ آؤٹ میں پیراگوئے کے ہاتھوں ایونٹ سے باہر ہو گئی ہے، جبکہ انگلینڈ نے ڈی آر کانگو کے خلاف 75ویں منٹ کے بعد زبردست کم بیک کیا ہے۔ بیلجیم نے سینیگل کے خلاف 85ویں منٹ تک 0-2 سے پیچھے رہنے کے بعد اضافی وقت میں یوری ٹیلیمنس کی پینلٹی پر تاریخی فتح حاصل کی ہے۔ یہ گول ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے دیر سے کیا گیا گول بن گیا ہے۔
لیکن تمام الٹ پھیروں میں سب سے سنسنی خیز اور تاریخی رہاہے مراکش کا نیدرلینڈز پر شاندار فتح کا قصہ۔ عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر موجود مراکش نے ساتویں نمبر کی نیدرلینڈز کو پچھلے دنوں پنالٹی شُوٹ آؤٹ میں 3-2 سے ہرا کر نہ صرف راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنائی ہے بلکہ فٹبال کے میدان میں ایک نئی طاقت کے طور پر اپنی شناخت بھی قائم کی ہے۔ حالانکہ دونوں ٹیموں کے درمیان میچ کا آغاز سخت مقابلے سے ہوا تھا۔ پہلا ہاف گول سے خالی رہا۔ 72ویں منٹ میں کوڈی گاکپو نے نیدرلینڈز کو برتری دلادی ۔ جب پوری دنیا یہ سوچ رہی تھی کہ ڈچ ٹیم جیت جائے گی تو انجری ٹائم میں شمس الدین طالبی کے کراس پر عیسیٰ دیوپ کے زبردست ہیڈر نے سکور 1-1 کر دیا۔ اس کے بعداضافی وقت میں بھی کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔بعد ازاں پنالٹی شُوٹ آؤٹ میں مراکش کے گول کیپر یاسین بونو نے شاندار سیو کیا اور پھر آگیا وہ لمحہ جس نے پورے افریقہ اور عرب دنیا کو جوش سے بھر دیا۔ ہوا یوں کہ اسماعیل صائباری نے فیصلہ کن پنالٹی کو اعتماد کے ساتھ گول میں تبدیل کر کے مراکش کو 2-3 سے تاریخی فتح دلا دی ۔کھلاڑیوں کا جوش، شائقین کی حوصلہ افزائی اور یاسین بونو کی قیادت نے وہ کمال کر دکھایا ، جس کا عام طور پر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فٹبال کے شائقین کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں فٹبال کی وہ تمامتر خوبیاں نظر آئی تھیں، جو اسے دنیا کا سب سے محبوب کھیل بناتی ہیں۔سب سے خوبصورت منظر وہ تھا، جب اپنے فیصلہ کن گول کے بعد کھیل کے اسی میدان میںمراکش کے تمام کھلاڑی بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو گئے تھے۔ظاہر ہے، مراکش کی یہ فتح صرف ایک میچ جیتنا نہیں، بلکہ 2022 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے والی ٹیم کے سفر کی کہانی کی تجدید ہے۔ مراکش کی ٹیم نے اپنے کھیل کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ افریقی فٹبال اب مزید پختہ، منظم اور خطرناک ہو چکا ہے۔ اب وہ راؤنڈ آف 16 میں میزبان کینیڈا سے مقابلہ کرے گا، جہاں سے اسے اپنی مہم کو مزید آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔
اس بار کےٹورنامنٹ نے دوسری کئی ٹیموں کو بھی چمکنے کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ پیراگوئے، مراکش،ناروے اور دیگر ٹیموں نے بڑی ٹیموں کو ہرا کر فٹبال کی غیر متوقع نوعیت کو اجاگر ہے۔ تاہم بڑی ٹیموں جیسے فرانس، برازیل، انگلینڈ اور بیلجیم اب بھی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ آنے والے دنوں میں ارجنٹائن، پرتگال، اسپین اور کولمبیا جیسی ٹیموں کے میچ بھی دلچسپی کا باعث بنیں گے۔ کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کا ممکنہ آخری ورلڈ کپ، لوکا ماڈریچ کی آخری جنگ، یہ سب کہانیاں ٹورنامنٹ کو اور بھی دلچسپ بنا رہی ہیں۔
فٹبال کا حسن اسی میں ہے کہ یہ صرف طاقت کا کھیل نہیں، بلکہ جذبے، حکمت عملی اور ایک لمحے کی چنگاری کا کھیل ہے۔ 48 ٹیموں والا فارمیٹ اگرچہ تنقید کا شکار رہا ہے، مگر اس نے مقابلوں کی شدت اور غیر متوقع نتائج میں اضافہ بھی کیا ہے۔ مراکش کی فتح اس بات کی زندہ مثال ہے کہ ورلڈ کپ اب صرف یورپ اور جنوبی امریکہ کا نہیں رہ گیا ہے۔بہر حال اب راؤنڈ آف 16 کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔ کون سی ٹیمیں آگے بڑھتی ہیں اور کون سی خواب دیکھ کر لوٹ جاتی ہیں، یہ تو وقت بتائے گا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ فیفا ورلڈ کپ , 2026 نئے رنگ ڈھنگ کے ساتھ ا پنے عروج پر ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو فٹبال کے شائقین 19 جولائی تک، اس کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔

