تاثیر 25 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مرکزی وزیر تعلیم دھر میندر پردھان نے کل اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔اس واقعہ کو ملک کی موجودہ سیاست میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ استعفیٰ دینے کے بعد دھر میندر پردھان نے سوشل میڈیا پر لکھا تھاکہ گزشتہ دس دنوں سے ان کا دل اداس تھا، اس لئے انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیاہے۔ یہ استعفیٰ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کی اس تحریک کا براہ راست نتیجہ ہے جو 6 جون سے شروع ہوئی اور جس کی پہلا مطالبہ ہی وزیر تعلیم کا استعفیٰ تھا۔ چنانچہ جنترمنتر پر پزاروں کی تعداد میں بیٹھے طلبہ و نوجوانوں نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔ تاہم، طلبہ و نوجوانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صرف ایک قدم ہے۔ 20 جولائی کو ان پر لاٹھیاں برسانے، پیلیٹ گن سے زخمی کرنے، خاتون تحریک کاروں کے ساتھ نا زیبا سلوک کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے، تحریک کاروں کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے، عوامی طور پر معافی مانگنے اورنیٹ پیپر لیک کی وجہ سے خودکشی کرنے والے بچوں کے گھروالوں کو ایک ایک کروڑ کا معاوضہ دینے جیسے کئی مطالبات ابھی باقی ہیں۔ اس لیے تحریک جاری رہے گی۔
دھر میندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر کل جیسے ہی عام ہوئی ، شوسل میڈیا پر عوامی رد عمل کا گویا سیلاب آگیا۔سب کی زبان پر بس ایک ہی بات تھی’’ یہ نوجوان نسل کی اجتماعی طاقت کا ثبوت ہے۔ ‘‘ سی جے پی کا آغاز ایک طنزیہ ردعمل سے ہوا تھا، لیکن نیٹ پیپر لیک ،اس کی وجہ سے رزلٹ کی منسوخی ، متعدد امیدواروں کی خوشی، دوبارہ ایگزامنیشن کا انعقاد اور پھرڈھیر ساری تکنیکی خامیوں کی شکایات نےاسے حقیقی تحریک میں بدل دیا۔ جنترمنتر پر دھرنا، سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور 20 جولائی کے’’ سنسد مارچ‘‘ اور اس کے بعدکے حالات نے دباؤ اتنا بڑھا دیا کہ ایک مرکزی وزیر کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اس واقعہ کو کچھ لوگ اس نظریہ سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ جمہوری نظام میں مسلسل اور پرامن دباؤ سے نتائج نکل سکتے ہیں۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’اگر تم نہیں ڈرو گے تو کسی سے بھی استعفیٰ لے سکتے ہو۔‘‘
دوسری طرف مانا جا رہا ہے کہ یہ استعفیٰ نظام کی بنیادی خرابیوں کا حل نہیں ہے۔ نیٹ اسکینڈل صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایگزامنیشن سسٹم میں بار بار پیش آنے والی بدعنوانی، شفافیت کی کمی اور احتساب کی عدم موجودگی کی علامت ہے۔ ایک کابینہ وزیر کا استعفیٰ سیاسی جوابدہی کا ایک مظہر ہے، لیکن اس سے پیپر لیکس روکنے والے میکانزم، تیز تر تحقیقات اور متاثرہ طلبہ کے مستقبل کی ضمانت خود بخود پیدا نہیں ہوتی۔ گرچہ حکومت نے فاسٹ ٹریک کورٹس کے قیام اور دیگر اقدامات کا اعلان کیا ہے، لیکن طلبہ ان وعدوں کو ناکافی سمجھتے ہیں۔
متعلقہ پورے واقعات کاسب سے اہم نکتہ 20 جولائی کی کارروائی ہے۔ اس دن کے لاٹھی چارج اور مبینہ پیلیٹ گن کے استعمال اور پولیس ایکشن سے جڑے دیگر ویڈیوز وائرل ہوئے، جن میں کئی نوجوانوں کے بری طرح سے زخمی ہونے اور خاتون تحریک کاروں کے ساتھ بد سلوکی کئے جانے جیسے ویڈیوز شامل تھے۔بس اس کے بعد سے ہی جنتر منتر سے اٹھ کرطلبہ تحریک کی چنگاریاں ملک کے متعدد دور افتادہ علاقوں تک پہنچ گئیں۔اس کے بعد سے دھیرے دھیرے حالات انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہوتے چلے گئے۔اور اس کے بعد حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے۔اور اب تحریک کار اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ ہمارے باقی ماندہ مطالبات کو پورا کئے بغیر صرف ایک استعفیٰ کو حتمی کامیابی قرار دینا قطعی مناسب نہیں ہے۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ حکومت نے دباؤ محسوس کیا اور اسی کی وجہ سے مرکزی وزیر تعلیم جیسااہم عہدہ خالی کروایا گیا۔ یہ سیاسی سمجھداری بھی ہو سکتی ہے تاکہ تحریک مزید نہ پھیلے اور قومی اتحاد متاثر نہ ہو، جیسا کہ خود وزیر نے اپنے بیان میں اشارہ کیا ہے۔ لیکن تحریکی نوجوانوں کا صاف صاف کہنا ہے کہ وہ صرف ایک شخص کے استعفیٰ پر مطمئن ہونے والے نہیں ہیں۔
بہر حال وزیر تعلیم نے گرچہ استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن تحریکی نوجوان جنتر منتر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک باقی مطالبات پورے نہیں ہوتے، تحریک جاری رہے گی۔جنتر منتر سے لے کر ملک کے دیگر شہروں تک پھیلی یہ تحریک اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تعلیم کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کواب صرف مطالبہ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر لیا جانا چاہئے۔ظاہر ہےجمہوریت میں نوجوانوں کی یہ آوازوں کوسننا سیاسی مجبوری نہیں بلکہ تعلیمی اصلاحات کا موقع سمجھنا ضروری ہے۔ ایک یہی تدبیر ہے ، جو طلبہ تحریک کا راستہ بند کر سکتی ہے۔

