تاثیر 15 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران، 15 جولائی : آبنائے ہرمز کے ایرانی بندرگاہوں پر پھر سے کئی گئی امریکی فوجی ناکہ بندی سے خلیجی ممالک میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ اس سے ایران میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اپنی تیل کی تجارت کے تحفظ کے لیے ایران نے ’ ڈارک فلیٹ ‘ کو فعال کر دیا ہے۔ ’ڈارک فلیٹ ‘ میں شامل بحری جہاز ریڈار سے بھی بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران میں ناکہ بندی اور حالیہ حملوں کے بعد امریکی اتحادیوں نے اپنی چوکسی بڑھا دی ہے۔گلف نیوز اور سی این این کی رپورٹس نے شپنگ ٹریکرز کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا ’ ڈارک فلیٹ ‘ امریکی بحری ناکہ بندی کے دوبارہ نفاذ کے ساتھ سرگرم ہو گیا ہے۔ ایران نے ناکہ بندی کے نافذ ہونے سے چند گھنٹے قبل ایسے جہاز تعینات کیے تھے۔ یہ جہاز کسی بھی بحری ناکہ بندی سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ’ ڈارک فلیٹ‘، جسے’ شیڈو فلیٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، پرانے اور غیر بیمہ شدہ جہازوں (زیادہ تر آئل ٹینکرز) کا ایک خفیہ گروپ ہے۔ ایران اور کچھ دوسرے ممالک ان جہازوں کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے اور غیر قانونی طور پر تیل فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔میرین ٹریکر ونڈورڈ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اور اس کے قریب ایسے 23 جہاز تعینات کیے ہیں۔ ان کو ’ڈارک ویسلس‘بھی کہلاتے ہیں۔ ایسے جہاز اپنے آٹومیٹک آئیڈینٹی فکیشن سسٹم (اے آئی ایس) ٹرانسپونڈر کو بند کر دیتے ہیں، جس سے انہیں ٹریک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے وہ ریڈار سے غائب ہو جاتے ہیں۔ فرار ہونے کے لیے، یہ جہاز اپنا تیل بیچ سمندر میں دوسرے جہازوں میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ جہاز عام طور پر پاناما یا لائبیریا جیسے چھوٹے ممالک کے جھنڈے لگاکرچلتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ روس، ایران اور وینزویلا جیسے ممالک بنیادی طور پر مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے ’ڈارک فلیٹ‘ استعمال کرتے ہیں۔

