صوتی آلودگی کے ایک بڑا قدم

تاثیر 21 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار میں بڑھتی ہوئی صوتی آلودگی کے خلاف ایک سخت اور جامع موقف اختیار کرتے ہوئے ریاست بھر کے لئے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ جسٹس راجیو رائے کی سنگل بنچ نے توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی کارروائی کو گزشتہ روز مکمل کرتے ہوئے ڈی جے، بلند آواز والے لاؤڈ اسپیکر، میرج ہال اور گاڑیوں کے پریشر ہارن کے بے قابو استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لئے ریاستی سطح پر تفصیلی احکامات دیے ہیں۔ یہ فیصلہ محض ایک قانونی ہدایت نہیں بلکہ عوامی صحت، سڑک کی حفاظت اور شہری سکون کے حق کو تسلیم کرنے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
عدالت نے صوتی آلودگی (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2000 اور موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ سب سے نمایاں حکم یہ ہے کہ رات 9:55 بجے کے بعد ڈی جے، لاؤڈ اسپیکر یا کسی بھی قسم کے ساؤنڈ سسٹم کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ دن کے وقت بھی آواز کی سطح مقررہ ڈیسیبل حد کے اندر رکھنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اسپتالوں اور اسکولوں کے آس پاس 100 میٹر کے دائرے کو  سائلنس زون قرار دیا گیا ہے، جہاں ہارن اور لاؤڈ اسپیکر پر مکمل پابندی ہوگی اور متعلقہ جگہوں پر ‘‘نو ہارن، نو لاؤڈ اسپیکر’’ کے سائن بورڈ لگانے لازمی بنائے گئے ہیں۔
پریشر ہارن کے بارے میں عدالت نے خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ بہار کو پریشر ہارن سے پاک کرنا ضروری ہے۔ پولیس کو موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 190(2) کے تحت چالان کاٹنے اور کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کٹیہار کے پوتھیا تھانے کی مثال پیش کرتے ہوئے عدالت نے بتایا ہے کہ وہاں صرف ایک ہفتے میں 1.10 لاکھ روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ اب ریاست کے تقریباً 1500 تھانوں کو یہ مہم مسلسل چلانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ یہ محض عارضی مہم نہ رہے۔
عدالت نے ڈی جے آپریٹرز، میرج ہال مالکان اور ساؤنڈ سسٹم آپریٹرز کے لئے مقامی سب ڈویژنل آفیسر کے پاس رجسٹریشن لازمی قرار دیتے ہوئے اس کی کاپی متعلقہ تھانے میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔بہار اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ کو عوامی مقامات پر صوتی نگرانی کے نظام اور ڈیجیٹل ڈسپلے بورڈ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عوام میں آگاہی بڑھے۔ تمام ضلع مجسٹریٹ، پولیس سپرنٹنڈنٹ، سب ڈویژنل آفیسرز اور تھانہ انچارجوں کو ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
عدالت کی یہ ہدایات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوتی آلودگی اب صرف تکلیف نہیں بلکہ صحت عامہ اور سڑک حادثات کا بڑا سبب بن چکی ہے۔ رات کے وقت بلند آواز والے ڈی جے اور لاؤڈ اسپیکر مریضوں، طلبہ اور عام شہریوں کی نیند اور سکون کو متاثر کرتے ہیں۔ پریشر ہارن نہ صرف شور پیدا کرتا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ عدالت کا یہ موقف قابل تعریف ہے کہ مذہبی تقاریب، شادیوں یا عوامی تقریبات کے نام پر شور کی من مانی قبول نہیں کی جائے گی۔تاہم، اصل امتحان اب انتظامیہ اور پولیس کا ہے۔ عدالتی احکامات کاپیوں میں رہ جائیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ پٹنہ رینج آئی جی نے فوری اجلاس بلا کر ہدایات دی ہیں، جو مثبت اشارہ ہے۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مستقل نگرانی، شفاف کارروائی اور عوامی تعاون کے بغیر یہ احکامات محض کاغذی رہ جائیں گے۔ ڈی جے آپریٹرز اور گاڑی مالکان کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
بہر حال پٹنہ ہائی کورٹ کا یہ تاریخ ساز فیصلہ بہار کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ صوتی آلودگی کو قابو کر کے شہری زندگی میں سکون واپس لائے۔ اگر انتظامیہ ان ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کرے تو نہ صرف رات کی نیند پر سکون ہوگی بلکہ سڑکیں بھی زیادہ محفوظ بنیں گی۔عدالت کے اس فیصلے کی تعریف و توصیف کے ساتھ حکومت اور دیگر تمام متعلقین کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ قانون کی حکمرانی اس وقت مؤثر ہوتی ہے، جب اسے پوری قوت ارادی کے ساتھ زمین پر نافذ کیا جائے۔ویسے پٹنہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد عوام کو بھی یہ یقین ہو گیا ہے کہ اب سکون کے ساتھ جینے کا وقت آ گیا ہے۔
********