تاثیر 10 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
لکھنؤ، 10 اگست: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منافع خوری، منافع کمانے والی کاروباری سوچ اور رجحانات کو ترک کرکے آئین کی حقیقی انسان دوست اور فلاحی پالیسیوں اور اصولوں پر پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ عمل کرکے آگے بڑھنا ہوگا،جو ’ہر ہاتھ کو کام‘ دینے والی وسیع تر قومی اور عوامی مفاد میں لاکھ دکھوں کی ایک دوا ہے، یہی تمام حکومتوں سے اپیل ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے پیر کو ایکس پر لکھا کہ بی ایس پی نے اتر پردیش میں اپنی حکومت کے دوران، پولیس اور پنچایتی راج محکموں میں تقریباً سوا دو لاکھ نئے سرکاری عہدے تخلیق کئے ۔ اس کے علاوہ ، ملازمتوں کی بھرتی پر لگی روک کو بھی ہٹا کر معاشرے کے تمام طبقات کے لاکھوں لوگوں کو سرکاری ملازمتوں پربحال کیا۔ اس کے بعد اقتدار میں نہ رہنے پر طویل عرصے سے ملک میں اور بالخصوص اترپردیش ، اتراکھنڈ اور پنجاب جیسی ریاستوں میں زبردست مہنگائی، انتہائی غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، بدحال صحت کی دیکھ بھال، پسماندگی اور مجبوری کے سبب ا ن کی ہجرت ،خواتین کا عدم تحفظ، پیپر لیک اور بدعنوانی جیسے سلگتے مدعوں اور سنگین مسائل کے حل کے لئے موثر قدم اٹھانے کا مطالبہ مرکز اور ریاستی حکومتوں سے بار -بار کرتی رہی ہے۔

