تاثیر 09 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ویشالی نے قانون ساز کونسل کے رکن کو سونپا میمورنڈم.
حاجی پور/ ویشالی (شرافت خان ): تبدیلی پسند ابتدائی اساتذہ تنظیم کی ویشالی ضلع اکائی کی ایک اہم میٹنگ پوکھرا محلہ واقع نارائن واٹیکا میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں تنظیم کے ریاستی صدر و ترہت گریجویٹ حلقہ کے قانون ساز کونسل کے رکن بنسی دھر برجواسی نے شرکت کی۔ میٹنگ کے آغاز میں اساتذہ نے گلدستہ پیش کرکے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ میٹنگ کے دوران اساتذہ نے قانون ساز کونسل کے رکن کے سامنے سرپلس اساتذہ کا مسئلہ، جبری تبادلہ، ہاؤس رینٹ میں کٹوتی، تقرری شدہ اساتذہ کی زیر التوا تنخواہ، بقایا تنخواہ کی ادائیگی، ترقی اور اردو اسکولوں میں جمعرات کو ہاف ڈے کرنے سمیت کئی اہم مسائل کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ اس موقع پر ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ویشالی کے صدر و سبکدوش استاد عظیم الدین انصاری اور جنرل سکریٹری کوثر پرویز خان نے اردو اسکولوں میں جمعرات کو ہاف ڈے کرنے کا مطالبہ پیش کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کے رکن کو میمورنڈم سونپا۔ اساتذہ نے کہا کہ اردو اسکولوں میں جمعرات کو ہاف ڈے کیے جانے سے اساتذہ اور طلبہ کو سہولت حاصل ہوگی۔ اساتذہ نے بتایا کہ کئی ایسے اساتذہ جو برسوں سے اپنے اسکولوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں سرپلس قرار دے دیا گیا ہے۔ وہیں تبادلے کے عمل میں حقیقی ضرورت کے بجائے کئی معاملات میں جبری تبادلے جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ہاؤس رینٹ میں کٹوتی اور زیر التوا و بقایا تنخواہ کی ادائیگی کو لے کر بھی اساتذہ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر قانون ساز کونسل کے رکن بنسی دھر برجواسی نے سرکاری اسکولوں میں ہفتہ کے روز ہاف ڈے کیے جانے کے اساتذہ کے مطالبے کی تکمیل پر وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور وزیر تعلیم متھیلیش تیواری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اساتذہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے اس مطالبے کو ایوان کے اندر اور باہر مسلسل اٹھایا گیا، جس کے بعد حکومت نے اسے تسلیم کیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ اساتذہ کی جانب سے اٹھائے گئے تمام مسائل کو متعلقہ افسران، وزیر تعلیم اور وزیر اعلیٰ کے سامنے مضبوطی کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ نے بڑی امید اور اعتماد کے ساتھ انہیں ایوان میں بھیجا ہے، اس لیے وہ ان کے مسائل کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اساتذہ کے حقوق اور مفادات کے لیے ان کی جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔ بنسی دھر برجواسی نے کہا کہ اساتذہ کی آواز اٹھانے کی وجہ سے انہیں پہلے استاد کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، لیکن یہی اساتذہ انہیں ایوان تک لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اساتذہ کی آواز ایوان میں اٹھانے کی وجہ سے انہیں کسی بھی طرح کی کارروائی یا برطرفی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ بھی انہیں منظور ہے، لیکن اساتذہ کی آواز اٹھانے سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میٹنگ میں ضلع صدر دنیش پاسوان، سینئر ضلع سکریٹری نوین کمار، خزانچی اندر دیو مہتو، بلاک صدر راجو رنجن چودھری، ضلع سکریٹری ناگمنی، ضلع سکریٹری عبدالقادر، سنتوش کمار رائے، لال گنج بلاک صدر وکاس روشن سمیت تنظیم کے کئی عہدیداران اور سرگرم اساتذہ موجود تھے۔ اس کے علاوہ فتح پور بلاک صدر اروند یادو، جنرل سکریٹری سنیل، سکریٹری رتنیش، بھگوان پور بلاک صدر امرناتھ، ہمانشو، بدوپور بلاک صدر ہری برج کمل، دیسری کنوینر پرمود بھارتی، جنداہا کے نامزد بلاک صدر پپو کمار، سہدیئی بلاک صدر شیو پرساد مہاتما، راگھوپور سے رندھیر یادو، اروند کیجریوال، سنتوش یادو سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ موجود تھے۔
میٹنگ میں تنظیم کو مزید مضبوط بنانے اور اساتذہ کے مسائل کو متحد ہوکر حکومت و محکمہ تعلیم کے سامنے مضبوطی کے ساتھ اٹھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

