حماس کے اسلحوں کو جمع کرنے اور سرنگوں کے خاتمے کا عمل شروع کرنے میں60سے 90 دن لگ سکتے ہیں:جیرڈ کُشنر

تاثیر 18 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،18اگست: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے جیرڈ کُشنر نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور ٹرمپ انتظامیہ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے آئندہ 30 سے 90 دن انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حماس کے ہتھیار جمع کرنے کا عمل تقریباً 30 دن میں شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ غزہ کی بعض سرنگوں کو ختم کرنے کا کام 60 سے 90 دن کے اندر شروع کیا جا سکتا ہے۔فوکس نیوز کو تل ابیب میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کُشنر نے کہا کہ امریکہ غزہ میں امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کے تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطلوبہ تعاون حاصل ہوتا ہے تو آئندہ تقریباً 30 دن میں عملی پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس میں حماس کے بعض ہتھیاروں کو جمع کرنے کا عمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔
کُشنر نے کہا کہ حماس کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ ہے اور بعض سرنگوں کے خاتمے کا عمل شروع ہونے میں 60 سے 90 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاعی حق کو محدود کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ کُشنر کے مطابق اگر اسرائیل کو کسی فوری اور براہِ راست خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو واشنگٹن اس کے اپنے دفاع کے حق میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔