تاثیر 08 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گوہاٹی، 08 اگست: آسام میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے لوگ اب آہستہ آہستہ سنبھلنے لگے ہیں۔ تاہم، صورت حال اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔ بالائی آسام کے شیوساگر، چرائیدیو، جورہاٹ اور گول گھاٹ میں لوگوں کی معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس آفت سے مکمل طور پر نکلنے میں لوگوں کو کافی وقت لگنے والا ہے۔ اگرچہ حکومت بار بار دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ ہر طرح کے نقصانات کی تلافی کی کوشش کر رہی ہے، اس کے باوجود حالات معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔
آسام ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری 07 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق دھن سیری ندی (نوملی گڑھ اور گول گھاٹ) اور کْسیارا ندی (شری بھومی) کے علاقوں میں پانی اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے، جس کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ اس دوران جمعہ کو چرائیدیو ضلع میں ایک اور لاش برآمد ہوئی۔ اس طرح ریاست میں سیلاب سے مرنے والوں کی کل تعداد 97 ہوگئی ہے۔
موجودہ وقت میں سیلاب کی صورت حال کل 13 اضلاع میں بنی ہوئی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں شیوساگر، گول گھاٹ، نگاوں، ہوجائی، شونیت پور، دھیماجی، درنگ، بشوناتھ، کامروپ (میٹرو)، لکھیم پور، ادالگری، جورہاٹ اور چرائیدیو شامل ہیں۔ سیلاب سے 13 اضلاع کے 33 ریونیو سرکل کے کل 464 گاوں متاثر ہیں۔ موجودہ وقت میں ریاست کے کل 1,55,849 افراد اب بھی متاثر ہیں اور 10,748.64 ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔

