جنگوں کی زد میں دنیا کی 43 فیصد سے زائد تیل سپلائی، عالمی توانائی بحران مزید سنگین

تاثیر 25 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لندن، 25 اگست: دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور مسلح تنازعات نے عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تازہ تجزیے کے مطابق ایران، روس، یوکرین، لیبیا اور وینزویلا سمیت تنازعات اور پابندیوں سے متاثرہ ممالک نے 2025 میں مجموعی طور پر تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کیا، جو دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا 43 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ڈیٹا کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔صورتحال اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ موجودہ بحران ایک ہی خطے تک محدود نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ، روس یوکرین جنگ، لیبیا اور وینزویلا سے متعلق پابندیوں کے اثرات بیک وقت عالمی تیل مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں۔ایران کے خلاف جنگ نے عالمی توانائی منڈی کو سب سے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ تقریباً چھ ماہ سے جاری بحران کے دوران خلیج سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت خلیجی خطے میں تیل کی ترسیل میں تقریباً 50 سے 70 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کا اندازہ ہے۔ سعودی عرب نے اپنی کچھ برآمدات کے راستے بحیرہ? احمر کی جانب منتقل کیے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل راستوں اور محدود بحری ترسیل کا سہارا لے رہے ہیں۔