کولکاتا ہوٹل آتشزدگی کے بعد ٹریڈ لائسنس اور فائر سیفٹی پر سوالات، ریاستی حکومت  کی جانب سے جانچ کا امکان

تاثیر 19 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 19 اگست : کولکاتا کے نیو مارکیٹ تھانہ علاقے کی مرزا غالب اسٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والی بھیانک آتشزدگی میں نو افراد کی موت کے بعد ہوٹل کو جاری کیے گئے ٹریڈ لائسنس، بجلی کے کنکشن اور فائر سیفٹی انتظامات کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ریاست کی شہری ترقی کی وزیر اگنی مترا پال نے بدھ کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ہوٹل کو مبینہ طور پر ضوابط کی خلاف ورزی کے باوجود اجازت ملنے پر سوال اٹھائے۔اگنی مترا پال نے کہا کہ پانچ منزلہ عمارت میں کئی ہوٹل چل رہے تھے۔ کمروں کا سائز چھوٹا تھا اور داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بھی تنگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ہنگامی انخلا کے لیے مناسب انتظامات اور آگ بجھانے کے ضروری آلات بھی نظر نہیں آئے۔ ایسے میں متعلقہ ایجنسیوں سے منظوری کیسے ملی، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
وزیر نے سابق شہری ترقی کے وزیر اور کولکاتا کے سابق میئر فرہاد حکیم پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 15 برسوں میں ریاست میں بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر ہوٹلوں کا کاروبار فروغ پاتا رہا اور سابق حکومت کے دور میں ایسی اکائیوں کا مناسب معائنہ یا آڈٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی تقریباً 100 دن ہوئے ہیں اور اتنے کم وقت میں پوری ریاست میں ایسی تمام اکائیوں کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہے۔