تاثیر 28 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران، 28 اگست: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے حالیہ دور? ایران کے دوران ہونے والی بات چیت تعمیری رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی عمل کو دوبارہ پٹری پر لانا ناممکن نہیں، تاہم اس کے لیے واشنگٹن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سفارت کاری کے راستے دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کے ساتھ اعتماد اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کرنا ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا کو ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد اور احترام ہی وہ بنیاد ہے جس پر سفارتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ قطری وزیراعظم کے حالیہ دور? تہران کے دوران ایرانی حکام کے ساتھ خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ کسی بھی نئے سفارتی عمل کے لیے دباؤ کے بجائے احترام اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔ تہران امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کو مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کے منافی قرار دیتا رہا ہے۔

