تاثیر 12 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ٹھاکرگنج (محمد شاداب غیور):بدھ کے روز ٹھاکرگنج بلاک ہیڈکوارٹر میں منعقد پنچایت سمیتی کی عام میٹنگ میں بلاک کے مختلف آنگن باڑی مراکز سے محکمہ اطفال ترقیاتی پروجیکٹ دفتر کی جانب سے مبینہ طور پر 2500 روپے کی غیر قانونی وصولی کا معاملہ زور شور سے اٹھایا گیا۔ مختلف پنچایتوں کے مکھیا اور سمیتی اراکین نے میٹنگ میں اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر اٹھاتے ہوئے مبینہ غیر قانونی وصولی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں کسانوں سے حکومت کی جانب سے مقررہ شرح سے زیادہ رقم وصول کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ میٹنگ میں موجود رکن اسمبلی گوپال کمار اگروال نے متعلقہ محکموں کے افسران کو سخت الفاظ میں آخری انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کیا ہوتا تھا، اس سے کوئی مطلب نہیں، لیکن اب ایسی سرگرمیوں پر فوری طور پر روک لگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جن افسران کے خلاف شکایات موصول ہوں گی، ان کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ عام لوگوں اور کسانوں کو کسی بھی سرکاری کام کے لیے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس بات کا تمام افسران خصوصی خیال رکھیں۔ ترقی کے لیے متحد ہوکر کام کرنے کا عزم میٹنگ میں مقامی عوامی نمائندوں نے ٹھاکرگنج کی ترقی کے لیے متحد ہوکر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور کئی منصوبوں پر منظوری کی مہر بھی ثبت کی گئی۔ اس موقع پر جے ڈی یو بلاک صدر بیریندر سنگھ، مکھیا پتھریا اجے سنگھ، انوپما ٹھاکر، اکرام الحق، سمیتی رکن تیج نارائن یادو، اجمل ثانی، بی ڈی او آشیش کمار، سی او مرتیونجے کمار، پنچایت راج افسر اجیت کمار، بی ای او اودھیش کمار شرما، بی اے او انوج شرما، منریگا پی او سپریا کماری، سی ڈی پی او ناگیندر سنگھ سمیت دیگر افسران اور عوامی نمائندے موجود تھے۔

