تاثیر 28 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
آج ملک کے بیشتر حصّوں میں موسم کا مزاج بگڑنے کاامکان ہے ۔ انڈین میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) نے ایک بار پھر نیا الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق آج 29 اگست کو دہلی، اتر پردیش، بہار سمیت ملک کی 21 ریاستوں میں موسلا دھار بارش اور تیز آندھی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران ہوا کی رفتار 85 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو نہ صرف عام زندگی کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ زرعی پیداوار، سفری نظام اور انسانی جانوں کےلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق آج یوپی، بہار، دہلی، راجستھان، ہریانہ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، پنجاب، جموں و کشمیر، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر، کیرالہ، تامل ناڈو اور تلنگانہ سمیت متعدد ریاستوں میں شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کا الرٹ جاری ہے۔ مشرقی بھارت کے کئی اضلاع میں آسمانی بجلی اور گرج چمک کی بھی وارننگ دی گئی ہے۔ بنگال کی خلیج سے آنے والی تیز ہوائیں صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہیں، جبکہ کچھ ریاستوں میں اولے برسنے کا امکان بھی ہے۔ شمالی ہریانہ اور جنوب مشرقی اتر پردیش کے آس پاس سائیکلونک سرکولیشن بننے سے حالات مزید نازک ہو گئے ہیں۔
دہلی میں آج شدید بارش اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی چلنے کی توقع ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری اور کم سے کم 28 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔ اتر پردیش کے میرٹھ، غازی آباد، مرادآباد، کانپور، آگرہ، گورکھپور اور جھانسی سمیت کئی اضلاع میں موسلا دھار بارش کا الرٹ ہے۔ بہار کے پٹنہ، گیا، دربھنگہ، پورنیہ اور بھاگلپور جیسے علاقوں میں بھی تیز بارش اور طوفان کی پیش گوئی ہے۔ جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، ہماچل، جموں و کشمیر، مغربی بنگال، پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور اوڈیشہ میں بھی اسی طرح کے حالات متوقع ہیں۔
مانسون بھارت کی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اس کا انتہائی جارحانہ روپ اب تباہی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید بارشوں نے کئی علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ آج کی صورتحال میں دریاؤں کے نچلے علاقوں، پہاڑی علاقوں اور ساحلی پٹیوں پر رہنے والے لوگوں کو خاص طور پر خطرہ ہے۔ بڑے درخت جڑ سے اکھڑ سکتے ہیں، بجلی کے تار ٹوٹ سکتے ہیں اور سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ کسانوں کے لئے یہ دن انتہائی حساس ہے کیونکہ کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
اس صورتحال میں عام شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے موسمی اپ ڈیٹ ضرور چیک کریں۔ نچلے اور سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہیں، کھلے میدانوں یا درختوں کے نیچے پناہ نہ لیں اور آسمانی بجلی کے دوران کسی بھی دھاتی شے سے پرہیز کریں۔ گاڑی چلاتے وقت احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بچوں و بزرگوں کو گھر کے اندر رکھیں۔ کسان اپنی فصلوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کریں اور ماہی گیر سمندری مہم جوئی سے اجتناب کریں۔ مقامی انتظامیہ اور آفت انتظامی اداروں
کو بھی الرٹ رہنا چاہئے تاکہ بروقت امدادی کارروائیاں ممکن ہو سکیں۔
مانسون کی یہ جارحیت آب و ہوا کی تبدیلی کا ایک واضح اشارہ بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بارشوں کا پیٹرن بدل رہا ہے اور شدید موسمی واقعات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیلاب کے انتظام، بہتر ڈرینیج سسٹم اور ابتدائی وارننگ سسٹم کو مضبوط کیا جا سکے۔
بہر حال آج 29 اگست کا دن ملک کے کئی حصوں کے لئے چیلنجنگ ثابت ہو سکتا ہے۔ موسمی الرٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو ترجیح دیں۔ احتیاط ہی بہترین دفاع ہے۔ آئی ایم ڈی کی پیش گوئیوں پر عمل کرنے کے ساتھ ہی ہم مقامی انتظامیہ کے تعاون سے اس قدرتی چیلنج کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مانسون رحمت بھی ہے اور اس کے جارحانہ روپ میں آزمائش بھی۔ اس آزمائش سے محفوظ رہنے کے لئے ہوشیاری اور احتیاطی تیاری ہی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
*******

