تاثیر 10 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان 11 اور 12 ستمبر کو بھارت منڈپم، پرگتی میدان، نئی دہلی میں ہونے والی برکس سمٹ 2026 پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ اس اہم عالمی اجتماع کے موقع پر ایران نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پر واضح اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اس بیچ یہ اطلاع ملی ہے کہ ایرانی وفد سمٹ میں شرکت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری میں ہے۔ ظاہر ہے یہ اطلاع اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ خطے کے حساس حالات میں بھی بھارت ایک قابل اعتماد اور متوازن شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی برکس ویمن بزنس الائنس کی چیئرپرسن زہرا رہائی نے بھارتی نمائندوں کی جانب سے ایرانی وفد کو دیے گئے تعاون اور گرم جوشی سے استقبال کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں بھارت نے ایرانی وفد کا خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے گہرے اور تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ خواتین کی قیادت میں چلنے والی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے لئے ایران بھارت کے ساتھ ایک منظم فریم ورک بنانے کا خواہشمند ہے۔ اس کا مقصد ایرانی خواتین کاروباریوں کو برکس ممالک میں نئے مواقع، مالیاتی سہولیات اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمٹ کے موقع پر دونوں ممالک تجارت، کنیکٹیویٹی اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے۔ چابہار پورٹ اور انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے منصوبے اس تعاون کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
اِدھربھارت نے اس سمٹ کی تیاریوں کو مکمل کر لیا ہے۔ دہلی میں ہونے والے اس اجتماع میں اس بار سیاسی مسائل سے زیادہ سرحد پار تجارت، ڈیجیٹل ادائیگیوں، مقامی کرنسیوں میں لین دین اور سپلائی چین کے نظام کو آسان بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ عالمی جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل اور امریکہ کے ساتھ ٹیرف تناؤ کے پس منظر میں بھارت کی کوشش ہے کہ برکس ممالک کے درمیان ایک ایسا تجارتی اور مالیاتی ڈھانچہ تیار کیا جائے، جس میں اس کے اہم کردار ہو۔ اس سے نہ صرف ڈالر پر انحصار کم ہوگا بلکہ اقتصادی تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔
بھارت نے تمام اہم ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا ہے۔ چین کے ساتھ براہ راست پروازوں کی بحالی اور تجارت میں توسیع، روس کے ساتھ ایس یو-57 لڑاکا طیاروں، تیل اور دفاعی تعاون، ایران کے ساتھ چابہار اور تجارتی کوریڈور، متحدہ عرب امارات کے ساتھ روپیہ-درہم تجارت اور سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری جیسے موضوعات پر الگ الگ بات چیت کی تیاری ہے۔ برازیل، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ بھی زراعت، غذائی تحفظ، معدنیات اور ڈیجیٹل تعاون پر توجہ مرکوز ہے۔ یہ وسیع ایجنڈا بھارت کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ عملی اقتصادی نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مجموعی طور پردہلی میں سمٹ کی تیاریاں قابل تعریف ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات، ہوٹلوں کی بکنگ اور ٹریفک انتظامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت ایک بڑے عالمی ایونٹ کی میزبانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ برکس کے گیارہ اراکین اور دس پارٹنر ممالک کی موجودگی میں بھارت نے خود کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں متنوع مفادات کو جوڑ کر مشترکہ ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
اس سمٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بھارت نے اسے صرف ایک سفارتی تقریب نہیں بلکہ اقتصادی خودمختاری اور خطے میں استحکام کا ذریعہ بنایا ہے۔ ایران کا کھلا اعتماد، دوسرے ممالک کے ساتھ متوازن مذاکرات اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں اس بات کی دلیل ہیں کہ بھارت عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور دور اندیش قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگر یہ سمٹ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے تو نہ صرف بھارت کی اقتصادی سفارت کاری مضبوط ہوگی بلکہ برکس بھی ایک زیادہ مؤثر عالمی گروپ بننے کی طرف بڑھے گا۔ موجودہ عالمی حالات میں بھارت کا یہ کردار امید افزا اور قابل تحسین ہے۔

