تاثیر 22 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ایوت محل، 22 ستمبر: ضلع میں جولائی کے دوران مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے کیے گئے سروے میں مجموعی طور پر 52 طلبہ اسکولی تعلیم سیمحروم پائے گئے۔ ان تمام طلبہ کو اب قریب کی اسکولوں میں داخلہ دلایا گیا ہے۔ ہر سال مختلف وجوہات کی وجہ سے کئی بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں کی مالی حالت کمزور ہونے کے باعث بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، جبکہ کچھ والدین روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور ان کے بچے بھی تعلیم سے دور ہوجاتے ہیں۔ حکومت کی ہدایت ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے، اسی مقصد کے تحت اسکول سے باہر رہنے والے اور نقل مکانی کرنے والے بچوں کا باقاعدگی سے سروے کیا جاتا ہے۔ہر تعلیمی سال کے آغاز کے بعد یہ سروے کیا جاتا ہے۔ اس سال جولائی میں محکمہ تعلیم، سماجی بہبود، محصولات، محنت، خواتین و اطفال بہبود اور قبائلی امور سمیت مختلف محکموں کے ذریعے پورے ضلع میں سروے کیا گیا۔ سروے کے دوران دیہات، بستیوں، چھوٹی آبادیوں، قبائلی علاقوں، کھیتوں اور جنگلات میں رہنے والے خاندانوں کے ساتھ ساتھ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، سگنل، ہوٹلوں، اینٹوں کے بھٹوں، کھانے پینے کی جگہوں، عوامی مقامات، بازاروں، پتھر کی کانوں اور شکر کے کارخانوں سمیت مختلف مقامات پر پہنچ کر بچوں کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ سروے میں 39 ایسے طلبہ سامنے آئے جو اب تک اسکول نہیں گئے تھے، جبکہ 13 ایسے طلبہ بھی پائے گئے جنہوں نے اسکول میں داخلہ تو لیا تھا لیکن مسلسل غیر حاضر رہنے کے باعث تعلیم سے باہر ہوگئے تھے۔ اس طرح مجموعی طور پر 52 طلبہ اسکول سے باہر پائے گئے اور ان سب کو قریب کی اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

