بنیادی حقوق کی حفاظت ہی اصل طاقت

تاثیر 19 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکساں سول کوڈ کے خلاف اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پر  جمعرات کو اپنے مجوزہ دھرنے کو ملتوی کر دیا۔اس سے قبل دہلی پولیس نے اس بنیاد پر دھرنے کی اجازت نہیں دی تھی کہ اس میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے اور اگر ایسا ہوا تو اسے سنبھالنا مشکل ہوجائےگا۔دہلی پولیس کے اس غیر آئینی رویہ کے تناظر میں بورڈ نے اپنے دھرنا پروگرام کو فی الحال ملتوی کرتے ہوئے ملک گیر آئینی و قانونی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اسی روز بورڈ کے ذمہ داروں نے اپنے موقف کے اظہار کے لئے پریس کلب آف انڈیا میںایک پریس کانفرنس منعقد کی تو اسی دوران سدرشن نیوز سے وابستہ ایک خاتون صحافی کے غیر واجب سوالات اور بے وجہ چیخ و پکار پر ہنگامہ ہوگیا۔منتطمین بار بار اس خاتون صحافی سے گزارش کرتے رہے کہ پہلے آپ ہماری باتوں کو سن لیں اس کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوگا، لیکن اس خاتون صحافی نے ایک نہیں سنی اور وائرل ویڈیو کے مطابق اس نے ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رکھا۔
جمہوریت میں احتجاج کا حق آئین کا بنیادی حصہ ہے۔ آرٹیکل 19 ہر شہری کو پرامن اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ بورڈ نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کا مظاہرہ پرامن رہے گا اور پر امن احتجاج ہر کسی کا آئینی حق ہے۔گرچہ پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ اختیار شفاف اور یکساں طریقے سے استعمال ہونا چاہئے۔ اگر ایک ہی جگہ پر بعض لوگوں کو اجتماعات کی اجازت دی جائے اور کچھ لوگوںکو نہیں ،تو انتظامی فیصلہ سیاسی تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اسی روز دوسرے احتجاج سے جڑے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئےپولیس سے پوچھا تھا کہ جنتر منتر پر مکمل پابندی کیسے جائز ہو سکتی ہے ؟  ایک جمہوری ملک میں یہ سوال بالکل درست ہے۔ہاں، امن و امان ہر حال میں ضروری ہے، مگر محض فرضی خوف کی بنیاد پر احتجاج کے آئینی جواز کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔احتجاج کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے شرکاء کی محدود تعداد، شرکت کرنے والوں کا رجسٹریشن اور واضح ضابطہ اخلاق جیسے راستے اختیار کیے جا سکتے تھے۔
ملک کے موجودہ ماحول میں بورڈ کا فیصلہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔یہ بڑی اچھی بات ہے کہ غیرمجاز اجتماع یا تصادم سے بچتے ہوئے بورڈ کے ذمہ داروں نے حیدرآباد، ممبئی، کولکتہ اور بنگلور میں عوامی رابطے، قانونی کنونشن اور عدالتی راستہ اپنایا ہے۔ وہ پہلے ہی اتراکھنڈ اور گجرات کے یو سی سی کے خلاف ہائی کورٹوں میں اور وقف ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں۔ یہ جمہوری طریقہ کار ہے۔ تاہم بورڈ کو اپنی مہم میں صرف ’’شریعت بچاؤ‘‘کے نعرے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔ خواتین کے حقوق، وراثت، نکاح اور طلاق جیسے مسائل پر واضح اور قابلِ فہم موقف سامنے لانا ہوگاتاکہ وسیع تر شہری طبقہ بھی ان کی باتوں کو سنے۔
پریس کانفرنس کا واقعہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔سخت سے سخت سوال پوچھنا صحافی کا حق ہے، لیکن مسلسل مداخلت یا بدنظمی صحافت نہیں ہے۔ اسی طرح کسی ناگوار سوال کو فوراً ہنگامہ قرار دے کر خاموش کرنا بھی آزادیِ صحافت کے خلاف ہے۔ لیکن ’’سدرشن نیوز‘‘ کے ایجنڈے سے بھلا کون واقف نہیں ہے۔ملک کے کروڑوں امن پسند عوام ملک میں مذہبی منافرت نہیں، نظم و شائستگی چاہتے ہیں۔ملک کے امن پسند شہری اس صورتحال کو احتیاط اور توازن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ نہ تو احتجاج کے حق کو کچلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امن و امان کو داؤ پر لگانا۔ ان کا نظریہ واضح ہے: اختلاف رائے آئین کے دائرے میں رہنا چاہئے، قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے، اور بحث دلیل پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ خوف یا اکثریتی غلبے پر۔ یو سی سی جیسے معاملات پر گفتگو ضروری ہے، مگر اسے نعرے بازی سے آگے بڑھا کر آئینی اصولوں، خواتین کے حقوق اور تمام برادریوں کی عملی ضروریات پر مرکوز رکھنا چاہئے۔
بہر حال ،جمہوریت شور سے نہیں، دلیل سے مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ احتجاج کا راستہ بند نہ کرے بلکہ شفاف اصول وضع کرے۔ بورڈ کو چاہئے کہ اپنی بات آئینی زبان میں رکھے۔ میڈیا کو سنسنی کے بجائے حقائق پر توجہ دینی چاہئے۔گزشتہ جمعرات کو پیش آئے یہ واقعات ہمیںیاد دلاتے ہیں کہ آزادیِ اجتماع، آزادیِ مذہب اور آزادیِ اظہار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی حفاظت ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔
***