تاثیر 11 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ناگپور 11 ستمبر: معدنی وسائل کی وافر دستیابی، بڑے پیمانے پر صنعتی سرمایہ کاری کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت ودربھ بھارت کی اقتصادی ترقی کا ایک اہم مائننگ انجن بن سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت 2047 کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں ودربھ فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 20 برسوں میں ملک کے کان کنی کے شعبے سے معیشت میں نصف ٹریلین ڈالر تک کا تعاون ممکن ہے، جبکہ 3 کروڑ سے زیادہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
فڑنویس ناگپور میں دی انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز انڈیا کے ناگپور لوکل چیپٹر کی جانب سے ہوٹل ریڈیسن بلیو میں منعقدہ 36 ویں قومی کان کنی انجینئرنگ کانفرنس اور وکست بھارت 2047 کے لیے کان کنی کے موضوع پر قومی سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کان کنی کے شعبے سے متعلق نمائش کا افتتاح کیا اور اس کا معائنہ بھی کیا۔ تقریب کی صدارت ادارے کے صدر انجینئر منیش کوٹھاری نے کی، جبکہ وزیر مملکت آشیش جیسوال بھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے ودربھ کے معدنی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گڑھ چرولی میں لوہے کے ذخائر کی بنیاد پر تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور تقریباً 50 ملین ٹن سالانہ فولاد کی پیداوار کی صلاحیت تیار ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر نئے مشن کے تحت مجوزہ ابتدائی 8 کوئلہ گیسفیکیشن منصوبوں میں سے 4 منصوبے ودربھ میں آئے ہیں۔فڑنویس کے مطابق گڑھ چرولی کے ساتھ چندرپور، بھنڈارا، ناگپور، گوندیا اور ایوت محل اضلاع میں معدنی وسائل پر مبنی ایک نئی صنعتی ماحولیاتی معیشت قائم کی جاسکتی ہے۔ سبز فولاد، صاف ٹیکنالوجی اور بہتر نقل و حمل کے رابطوں کے ذریعے اس پورے خطے میں بڑے پیمانے پر روزگار اور اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے۔

