تاثیر28 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 28 اکتوبر: دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے دوران 22 سالہ نوجوان کی موت کے معاملے میں پانچ افراد کو سنائی گئی سات سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی پانچوں قصورواروں کی اپیلیں خارج کر دیں۔ جسٹس مدھو جین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپیل کرنے والے افراد صرف بھیڑ میں موجود نہیں تھے، بلکہ ان کا کردار اس سے کہیں زیادہ تھا۔
ہائی کورٹ نے امن کشیپ، دیویندر کمار، پردیپ رائے، آشیش عرف گولی اور ارون کمار کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں کو مسترد کر دیا۔ کڑکڑڈوما عدالت نے ان پانچوں کو بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعات 148 اور 304 کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ معاملہ دہلی کے دیال پور پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ 25 فروری 2020 کو برج پوری کے قریب مونش نامی نوجوان کا مبینہ طور پر ایک بھیڑ نے پیچھا کیا اور اس پر حملہ کر دیا۔ بعد میں اسپتال میں علاج کے دوران مونش کی موت ہو گئی۔قصورواروں نے اپنی اپیل میں استغاثہ کے معاملے میں کئی خامیوں کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد تھا، پولیس گواہوں کے بیانات درج کرنے میں تاخیر ہوئی اور شناخت کے لیے ٹیسٹ آئیڈینٹیفکیشن پریڈ(ٹی آئی پی) بھی نہیں کرائی گئی۔

