کشمیری سیب کی مانگ میں اضافہ، پیداوار میں کمی کے باوجود کسان اور بیوپاری خوش

تاثیر28 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سری نگر، 28 اکتوبر: وادی کشمیر میں سیب کی صنعت سے وابستہ کسان اور بیوپاری اس سال پیداوار میں کمی کے باوجود مطمئن اور خوش نظر آ رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی بے خلل روانی اور ملک کی منڈیوں میں کشمیری سیب کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ مانی جا رہی ہے۔
گزشتہ برسوں میں وادی کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی سری نگر۔جموں قومی شاہراہ اپنی خراب حالت کی وجہ سے موسم میں معمولی تبدیلی پر ہی ٹریفک کے لیے بند ہو جاتی تھی۔ حکومت کی جانب سے شاہراہ کو بہتر بنائے جانے کے بعد اب اس پر ٹریفک کی نقل و حمل مسلسل جاری رہتی ہے، جس سے کسان خوش بھی ہیں اور حکومت کے شکر گزار بھی۔
مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری نے متعدد مواقع پر جموں و کشمیر کا دورہ کر کے اس شاہراہ کے منصوبوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کے مطابق سری نگر۔جموں کا سفر نو گھنٹے سے گھٹ کر اب چار گھنٹے کا رہ گیا ہے۔
سوپور فروٹ منڈی سے وابستہ بیوپاری امتیاز احمد تبردار نے ہندوستھان سماچار سے گفتگو میں کہا کہ شاہراہ کی حالت بہتر ہونے سے اس سال کشمیر سے سیب سے لدے ٹرک بلا رکاوٹ ملک کی منڈیوں میں پہنچ رہے ہیں، جس کا کسانوں کو کافی فائدہ ہو رہا ہے۔