تاثیر1 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور، 31 اکتوبر : ضلع کے کہلگاو?ں میں این ایچ-80 پر واقع تاریخی کنواں نالہ پل انتہائی خستہ حالی کے باعث عوام کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ 1960 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا یہ پل مسلسل بھاری گاڑیوں کے دباو? اور طویل عرصے سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ مقامی لوگوں نے اسے ’’موت کا جھولا‘‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔
ممکنہ بڑے حادثے کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے پل پر ا?مدورفت مکمل طور پر بند کر دی ہے، تاہم کسی مو?ثر متبادل راستے کا انتظام نہ ہونے سے علاقے کی بڑی ا?بادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ تقریباً تین ماہ سے پل بند ہونے کے باعث روزانہ سفر کرنے والوں، اسکولی بچوں، مریضوں اور تاجروں کو بھاگلپور ضلع ہیڈکوارٹر پہنچنے کے لیے 15 سے 20 کلومیٹر کا اضافی چکر لگانا پڑ رہا ہے۔
عوام میں اس بات پر بھی شدید ناراضی ہے کہ حال ہی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے این ایچ-80 کی تعمیر نو کے باوجود اس پر واقع کئی دہائیوں پرانے اور کمزور پل کی مرمت یا نئے سرے سے تعمیر کی جانب خاطر خواہ توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ مقامی لوگ اور سیاسی حلقے اسے انتظامی اور محکمہ جاتی لاپروائی قرار دے رہے ہیں۔
پل کی بندش اور مرمتی کام میں تاخیر کے خلاف عوامی تحریک مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما اور ضلع پریشد رکن جناردن ا?زاد سب ڈویڑنل دفتر کے احاطے میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں، جہاں ان کی طبیعت خراب ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

