تاثیر25 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام): ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ مہم کے تحت اتوار کو دربھنگہ ضلع کانگریس کمیٹی کے دفتر، بل بھدر پور، لہریاسرائے میں پریس کانفرنس اور ضلع کانگریس کی مجلسِ عاملہ کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ کی صدارت دربھنگہ ضلع کانگریس کمیٹی (اربن) کے صدر ڈاکٹر جمال حسن نے کی۔ اس موقع پر ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ مہم کے دربھنگہ انچارج، چھتیس گڑھ کے سابق رکن اسمبلی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے سابق سکریٹری وکاس اپادھیائے خصوصی طور پر موجود رہے۔پریس کانفرنس سے قبل وکاس اپادھیائے اور ڈاکٹر جمال حسن کے ہاتھوں پشپا کماری نے کانگریس پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ انہوں نے راہل گاندھی کے نظریات، جدوجہد اور جمہوریت کے تحفظ کے عزم پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کانگریس سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکاس اپادھیائے نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور حقِ رائے دہی کا تحفظ آج ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ راہل گاندھی گزشتہ تین برسوں سے زیادہ عرصے سے ووٹوں کی مبینہ چوری اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کے معاملے کو مسلسل اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی سرپرستی میں انتخابی عمل کی غیر جانب داری پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں اور ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے سے جمہوری نظام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھے ہیں، جن کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔وکاس اپادھیائے نے کہا کہ یکم نومبر 2026 کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ’’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ مہم کے تحت ایک عظیم الشان مہا ریلی منعقد کی جائے گی۔ اس ریلی میں راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے سینئر رہنما، کارکنان اور انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنما و کارکنان بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے دربھنگہ ضلع کے کانگریسی کارکنوں اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں دہلی پہنچ کر جمہوریت اور اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ کی اس جدوجہد کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ریلی میں شرکت کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے اور ریل و سڑک کے ذریعے آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا کی جا سکتی ہیں، تاہم جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والے ایسے چیلنجز سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے دربھنگہ ضلع کانگریس کمیٹی (اربن) کے صدر ڈاکٹر جمال حسن نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ گزشتہ کئی ماہ سے ایوان سے سڑک تک جمہوریت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ملک نے دیکھا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے دیگر اراکینِ پارلیمنٹ کو بھی پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود جمہوریت بچانے کی لڑائی رکی نہیں ہے اور کانگریس کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔ڈاکٹر جمال حسن نے کہا کہ جب راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے رہنما ملک کے کروڑوں ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو کانگریس کے ہر کارکن اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس لڑائی میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ یکم نومبر کو دہلی میں ہونے والی مہا ریلی میں دربھنگہ ضلع سے ہزاروں کی تعداد میں کانگریسی کارکنان اور عام شہری شرکت کریں گے۔ اس کے لیے ضلع، بلاک اور دیگر تنظیمی سطحوں پر کارکنوں کو متحد ہوکر تیاریاں کرنے کی اپیل کی گئی۔دربھنگہ دیہی ضلع کانگریس کے صدر متھیلیش چودھری نے کہا کہ آج کی لڑائی صرف کسی سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں، بلکہ ملک کی جمہوریت، آئین اور عوام کے حقِ رائے دہی کو بچانے کی لڑائی ہے۔ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر بڑی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی پُرامن اور جمہوری طریقے سے لڑی جائے گی اور کانگریس کا ہر سپاہی اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔پروگرام میں ضلع کے معاون انچارج ٹیپو سلطان، دیہی ضلع انچارج ابھیجیت سنگھ، سیتارام چودھری، دیانند پاسوان، رام پکار چودھری، رتیکانت جھا، پرنس پرویز، ڈاکٹر منا خان، احسان صدیقی، دنیشور رائے، بسنت جھا، ادت نارائن چودھری، بملیندو ٹھاکر، محمد چاند، بلاک صدر راجہ انصاری، انصار حسن، محمد ارشاد، دھننجے سنگھ، نسیم حیدر، سید تنویر، راگھویندر کنور، محمد شرفراز، فیضان خان، پشپا کماری، نفیس خان، سونو خان، شرفراز زیدی، ارمان احمد، لطف الداور اور یوگیشور منڈل وغیرہ افراد موجود تھے۔

