Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th Jan.
پیرس،11جنوری:فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس تجویزکوخارج ازامکان قرار نہیں دیا گیا کہ یورپی یونین ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرے۔ایک روز قبل ہی جرمنی نے کہا تھا کہ یہ اقدام سیاسی طور پر اہم اور معنی خیز ہوگا۔پیرس اورتہران کے درمیان دوطرفہ تعلقات حالیہ مہینوں میں خراب ہوئے ہیں جبکہ جوہری مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ان مذاکرات میں فرانس بھی ایک فریق ہے۔تہران نے حال ہی میں سات فرانسیسی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ فرانس ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری پرتشدد کریک ڈاؤن پر تنقید کررہا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایران کی جانب سے روس کو ہتھیاروں کی ترسیل اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر پابندیوں کے چوتھے دورپرتبادلہ خیال کیاہے۔اس کے بعد بعض رکن ممالک نے بلاک سے مطالبہ کیاہے کہ وہ پاسداران انقلاب کودہشت گردتنظیم قراردے۔توقع ہے کہ برطانیہ الگ سے آنے والے ہفتوں میں یہ فیصلہ کرے گا۔فرانس اب تک پاسداران انقلاب کودہشت گرد قراردینے کے لیے دباؤ ڈالنے سے گریزاں رہا ہیلیکن اس ہفتے مظاہرین کی مزید پھانسیوں،تہران اور ماسکو کے درمیان قریبی فوجی تعاون اورڈرونز کی منتقلی کے بعد فرانس نے پاسداران انقلاب کے خلاف پابندیوں کے بارے میں بات کی ہے۔وزارت خارجہ کی ترجمان این کلیئر لیجنڈری سے جب پوچھا گیا کہ کیا پیرس نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قراردینے کی حمایت کی ہے؟ توانھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ’’اس جبر کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے، فرانس اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئی پابندیوں کے اقدامات پرکام کر رہا ہے‘‘۔جرمن وزیرخارجہ اینالینا بیربوک نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا ایک نیا دور کافی نہیں ہوگا۔ٹویٹرپراپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ’’ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قراردینا سیاسی طور پر اہم ہے اور یہ سمجھ میں آتا ہے، ایسا کرنے سے قبل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔یورپی بلاک کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گردگروپ قرار دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سپاہ سے تعلق رکھنا، اس کے اجلاسوں میں شرکت کرنا اور اس کا لوگوعوام کے سامنے رکھنا ایک مجرمانہ جرم بن جائے گا۔ایران میں1979ء میں برپاشدہ انقلاب کے بعد شیعہ مذہبی حکمران نظام کے تحفظ کے لیے قائم کردہ پاسداران انقلاب ایران کے سیاسی نظام میں بہت اثرو رسوخ رکھتے ہیں،وہ ملکی معیشت اورمسلح افواج کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتے ہیں اور ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگراموں کے بھی انچارج ہیں۔صدرابراہیم رئیسی کے انتخاب کے بعد سے ایران کے پیچیدہ اقتدار کے ڈھانچے میں پاسداران انقلاب کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔رئیسی کے زیرقیادت حکومت میں پاسداران انقلاب کے درجنوں کمانڈر شامل ہیں۔سپاہ پاسداران سے وابستہ بسیج ملیشیا نے 16 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس کے زیرحراست 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے ردعمل میں اٹھنے والی احتجاجی تحریک کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ نہتے احتجاجی مظاہرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن میں سب سے آگے رہی ہے۔