Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 12th Jan.
جموں،12جنوری:جموں وکشمیر میںاسمبلی الیکشن اس سال ہونے کی توقع ہے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتیں الیکشن تیاریاں لگی ہوئی ہیں۔ریاست کی تمام قومی اور علاقائی جماعتوں نے الیکشن کو مد نظر رکھ کر اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔بی جے پی نے اس سلسلے میں پارٹی رہنمائوں کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی ہے جس میں الیکشن کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ لیاگیا۔ اس میٹنگ کی صدارت قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش نے کی اور ریاستی بی جے پی صدر رویندر رینا کے علاوہ مرکزی وزیرمملکت جتیندر سنگھ، جگل کشور شرما اور دوسرے رہنمائوں نے حصہ لیا۔ لیکن اس سلسلے میں سیکورٹی حالات کاجائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ نیشنل کانفرنس سے پہلے ہی امیدواروں کی لسٹ جاری کی گئی ہے اور اس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی پارٹی الیکشن کیلئے تیار ہے اور کہا کہ یہی صحیح وقت ہے مرکزی زیر انتظام علاقے میں الیکشن عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ہمارا جمہوری حق ہے اور لوگوں کو اس حق کے استعمال کرنے کا حق دینا چاہئے ۔ 2014میں جموں وکشمیر میں آخری الیکشن کرائے گئے اس کے بعد ریاست کا درجہ کم کردیا گیا اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیاگیا ۔ 2018کے بعد وہاں پرصدر راج نافذ کیاگیا۔اور 19اگست2019میں اس کا خصوصی درجہ واپس لیاگیا ۔ نیشنل کانفرنس کے علاوہ پی ڈی پی اور پنتھرس پارٹی بھی الیکشن کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے جبکہ جبکہ سابق وزیرغلام نبی آزادپچھلے دو مہینوں سے جموں وکشمیر میں مقیم ہیں تاکہ وہ اپنی نئی پارٹی کو ڈیموکریٹک پروگریسیو آزاد پارٹی کو الیکشن کے لئے فعال بنائے۔ کانگریس بھی الیکشن کیلئے تیار بیٹھی ہے اور اس کے جو کچھ رہنما جو آزاد کی پارٹی میں شامل ہوئے تھے وہ پھر اس میں شامل ہوگئے ہیں۔کانگریس رہنما راہل گاندھی جموںوکشمیر میں اپنی بھارت جوڑو یاترا اختتام کریںگے اور اس سلسلے میں انہوں نے 20سے زیادہ سیاسی پارٹی کے رہنمائوں کو اس یاترا کی اختتامی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ بی جے پی کے رہنما مسٹر سنتوش نے پارٹی رہنمائوں اور ورکروں سے کہا کہ ہمیں الیکشن کے لئے بھرپور تیاری کرنی چاہئے۔ اورلوگوں کی حمایت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہئے۔پارٹی رہنمائو ںنے بھی کہا کہ وہ الیکشن کے لئے تیار ہیں ۔اس دوران وزیرداخلہ امیت شاہ نے بی جے پی کے سینئر رہنمائوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اس دوران راجوری میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ مرکزی سرکار نے سیکورٹی حالات کو بہتر بنانے کے لئے مزید 2000سی آرپی کے نوجوان وہاں روانہ کئے۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ شائع کیا اور اس میں تین لاکھ کے قریب نئے ووٹر شامل ہیں جبکہ اسمبلی کی حلقوں کی نئی حد بندی کی گئی۔ اوران کی تعداد 83سے بڑھا کر 90کی گئی۔