چاہتے ہیں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں آج ہی تحلیل ہو جائیں: فواد چوہدری

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 12th Jan.

اسلا م آباد،12جنوری:پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لیے جانے کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں آج ہی تحلیل کر دی جائیں۔جمعرات کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لیکن حکمراں اتحاد الیکشن میں جانے سے کترا رہا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اعتماد کے ووٹ میں کامیابی، سابق صدرآصف زرداری، رانا ثناء اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کی ناکامی ہے جو جھوٹے دعوے کر رہے تھے۔وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اْنہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔ جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران گورنر پنجاب کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اْنہیں عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں پانچ رْکنی بینچ نے جمعرات کو پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت کی۔گورنر کے وکیل کی جانب سے وزیرِ اعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لینے کے بعد عدالت نے کہا کہ گورنر کے وکیل نے وزیرِ اعلٰی پنجاب کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا بیان دیا ہے۔ پرویز الٰہی فلور ٹیسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،۔عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کا وزیر اعلی پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کا 22 دسمبر کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم کر دیا۔خیال رہے کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے گورنر پنجاب کی جانب سے اْنہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔وزیرِ اعلٰی پنجاب نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ گورنر پنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے اْنہیں خط لکھنے کے بجائے اسپیکر پنجاب اسمبلی سے رْجوع کیا تھا۔ لہذٰا اس معاملے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔عدالت نے اس معاملے پر 11 جنوری کو سماعت کے دوران کہا تھا کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب کے پاس 24 گھنٹے 186 اراکین کی حمایت ہونی چاہیے۔وزیرِ اعلٰی پنجاب نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 186 اراکین کی حمایت حاصل کر کے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا تھا۔پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہنے والے پانچ اراکین کے خلاف کارروائی ہو گی۔اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ خرم لغاری، مومنہ وحید، فیصل فاروق چیمہ، دوست مزاری اور چوہدری مسعود کے خلاف نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا جائے گا۔سندھ ہائی کورٹ نے 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات رکوانے سے متعلق متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کی درخواست مسترد کر دی ہے۔وائس آف امریکہ کے کراچی سے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایم کیو ایم کے وکیل طارق منصور نے مو?قف اختیار کیا کہ نامکمل الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جو غیر قانونی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ حسن اکبر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے کورم سے متعلق ایم کیو ایم کی ایک درخواست پہلے ہی مسترد ہوچکی ہے، کمیشن کے کورم کا معاملہ مشکوک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، کورم سے متعلق عدالتی فیصلے آچْکے ہیں۔ ایم کیو ایم کے وکیل کا موقف حقائق کے منافی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بار بار ایک جیسی درخواستیں مختلف بینچز کے سامنے دائر کی جاتی رہی ہیں جن میں الیکشن کمیشن کے 29 اپریل 2022 کے نوٹی فکیشن کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کورم پر الیکشن کے پہلے مرحلے پر بھی درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ آپ صرف جواب الجواب دیں اپنا کیس آپ پہلے بتاچکے ہیں۔ایڈووکیٹ طارق منصور نے کہا کہ کورم اہم معاملہ ہے جس پر جسٹس کلہوڑو نے کہا کہ آپ کو پورا ایک گھنٹہ دے چکے ہیں آپ وہی باتیں مت دہرائیں۔سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کمیشن نے قانون کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا اور اسی فیصلے کی بنیاد پر ایم کیو ایم پاکستان نے پہلے مرحلے میں حصہ بھی لیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فریقین وکلا کے دلائل سننے کے 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات رکوانے کی ایم کیو ایم کی درخواست مسترد کر دی۔وزیرِاعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کو عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ فریقین سیاسی معاملات خود حل کریں۔جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا پانچ رکنی بینچ چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔وزیرِ اعلیٰ کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اپنے دلائل جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ گورنر بلیغ الرحمان کے وکیل ان دلائل کے کاو?نٹر میں دلائل دے رہے ہیں۔جمعرات کو درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو پرویز الہیٰ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے جس پر جسٹس عابد نے استفسار کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے؟بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب اسمبلی کے 186 ارکان نے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اتنے ارکان کی حمایت ہی درکار ہوتی ہے۔گورنر پنجاب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ تو لے لیا ہے لیکن اس کے ریکارڈ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دینا چاہیے۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے گورنر کے وکیل سے استفسار کیا کہ فلور ٹیسٹ ہو گیا ہے، کیا آپ اس درخواست کی سماعت پر زور دیں گے اور کیا آپ گورنر سے مشاورت چاہتے ہیں جس پر گورنر کے وکیل نے کہا کہ بات مشاورت کی نہیں بلکہ آئین اور قانون کی ہے۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے فریقین وکلا کو کہا کہ اب ہمارے پاس تین سوال ہیں۔ ایک سوال پر تو اعتماد کا ووٹ لے لیا، گورنر کی جانب سے تاریخ مقرر کرنے کے نکتے کا سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے جب کہ تیسرا سوال یہ ہو گا کہ جب سیشن نہ ہو تو کیا وزیرِ اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر گھر بھیج سکتے ہیں۔عدالت نے فریقین کو کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی معاملات آپ خود حل کریں۔ کیا عدالت اتفاقِ رائے سے ایک فیصلہ کر دے؟”پنجاب اسمبلی کے بدھ اور جمعرات کی شب ہونے والے ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران اسپیکر سبطین خان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن نے ایوان کی کارروائی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان سمیت تحریکِ انصاف کے ارکین، مسلم لیگ ق کے ارکانِ اسمبلی ،مجلس وحدت المسلمین اور آزاد رکن بلال وڑائچ کا شکریہ ادا کیا۔چوہدری پرویز الہیٰ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ قائد اعظم کے بعد ایک ہی لیڈر عمران خان ہیں جن کے ویڑن کو آگے لے کر وہ بڑھ رہے ہیں۔ان کے بقول عمران خان نے جو نئے پاکستان کا خواب دیکھا ہے اسے کامیاب کریں گے۔