سعودیہ میں تن جڑے 2 عراقی بچوں کو کامیابی سے الگ کردیا گیا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13th Jan.

ریاض،13جنوری:سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے کنگ عبداللہ ا سپیشلسٹ ہسپتال برائے چلڈرن میں 27 کنسلٹنٹس، ماہرین اور نرسنگ اور ٹیکنیکل کیڈرز نے ملکر کامیاب آپریشن کرکے دو عراقی تن جڑے جڑواں بچوں کو الگ کر دیا۔ جڑواں بچوں علی اور عمر کو الگ کرنے کی آپریشن خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی ہدایت پر کیا گیا۔ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے “العربیہ” سے خصوصی بات چیت کی اور بتایا کہ تن جڑے ہوئے دونوں بچوں کی علاحدہ کرنے کا عمل چوتھے مرحلہ میں ہے اور پانچواں مرحلہ شروع کیا جائے گا۔جمعرات کی صبح کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر اور ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی قیادت میں میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے جسموں کے الگ کرنے کا آپریشن کیا۔ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے وضاحت کی تھی کہ سرجری چھ مراحل میں ہونے کی توقع ہے اور اس میں 11 گھنٹے لگیں گے۔جڑواں بچوں کے سینے اور پیٹ کے نچلے حصے میں چپک جانے کی وجہ سے آپریشن کی کامیابی کی شرح 70 فیصد ہے۔ دونوں کے جگر، پتے کی نالیاں اور آنتیں مشترکہ ہیں۔ انہوں نے کہا بچوں میں پلاسٹک سرجری ٹیم نے جلد کی توسیع کے آلات کی پیوند کاری کی جائے گی۔ڈاکٹر الربیعہ نے اپنی اور اپنی ٹیم کی طرف سے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے ان بچوں پر اپنی خصوصی توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہا یہ آپریشن سعودی عرب اور عراق میں گہرے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔بعد ازاں علی اور عمر کا 11 گھنٹے تک جاری رہنے والا آپریشن جیسے ہی کامیاب ہوا اور دونوں کو الگ الگ بستروں پر آپریٹنگ روم سے باہر نکالا گیا تو بچوں کے اہل خانہ کی خوشی ان کے چہروں سے واضح تھی۔ بچوں کو الگ الگ دیکھ کر علی اور عمر کے والد کے آنسو رواں ہو گئے اور و ہ روتے ہوئے سجدہ ریز ہو گیا۔ بچوں کے والد نے کہا “الحمد للہ، اے رب۔”یاد رہے یہ سعودی عرب میں عراق سے آئے تن جڑے بچوں کا پانچواں آپریشن تھا۔ اس سے قبل بھی عراق کے چار جوڑوں کو سعودی عرب میں الگ کیا جا چکا ہے۔ 1990 سے جڑواں بچوں کی سعودی عرب میں تن جڑے جڑواں بچوں کی علیحدگی کے آپریشن کئے جا رہے ہیں۔ علی اور عمر کی الگ کی جانے والی یہ جوڑی ایسی 54 ویں جوڑی تھی جسے سعودیہ میں الگ کیا گیا۔