سندھ حکومت کی درخواست مسترد، بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہی ہوں گے: الیکشن کمیشن

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13th Jan.

لندن،13جنوری:الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کا بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان مسترد کر دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے کراچی اور حیدرآباد سمیت مختلف اضلاع میں 15 جنوری کو ہی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران کمیشن نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی سندھ حکومت کی درخواست پر غور کیا۔کمیشن نے حکومتِ سندھ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور اس ضمن میں کمیشن نے وزارتِ داخلہ کو کہا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج اور رینجرز تعینات کی جائے۔امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے الیکشن ملتوی کرنے کے لیے خط لکھ کر عوام کے حق پر ڈاکا مارنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کے خط کو مسترد کرتے ہوئے از خود نوٹس لے کر ذمے داران کے خلاف کارروائی کرے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ہونا ہیں، سندھ حکومت دو روز قبل ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے کس طرح الیکشن ملتوی کرنے کا کمیشن کا کہہ سکتی ہے۔انہوں نے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل دھرنے کے دوران اختیار کیا جائے گا۔امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کیے تو پھر قانونی جنگ کریں گے اور جب تک الیکشن وقت پر ہونے کا اعلان نہیں ہوتا اس وقت تک دھرنا ختم نہیں ہو گا۔سندھ حکومت نے کراچی و حیدرآباد میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔حکومتِ سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شق دس کے تحت حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹی فکیشن واپس لے لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ 15 جنوری کو کراچی، حیدرآباد اور دادو میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے۔وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے جمعرات اور جمعے کی شب میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو حلقہ بندیوں پر تحفظات تھے جنہیں سنا گیا ہے جس کے بعد ان تحفظات کو حکومتی سطح پر حل کرنے کا فیصلہ کیا۔شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے دوران بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر بات ہوئی۔ ان کے بقول جمعے کو کابینہ کا دوبارہ اجلاس ہو گا جس میں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کسی کے احتجاج یا دھمکی کی وجہ سے نہیں کیا۔جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کا کراچی اور حیدرآباد کے عوام کے حق پر شب خون کسی صورت قبول نہیں۔انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ انتخابات ملتوی کرنے کی مذمت نہیں مزاحمت کریں گے اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کا کہ کراچی کے عوام کا حق ان وڈیروں اور ان کے چیلوں سے چھین کررہیں گے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے اسمبلی کی تحلیل کے لیے گورنر بلیغ الرحمان کو خط لکھ دیا ہے۔گورنر بلیغ الرحمان نے وزیرِ اعلیٰ کا بھیجا گیا خط ٹوئٹر پر شئر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ دیر پہلے ہی اسمبلی کی تحلیل کے لیے خط موصول ہوا ہے۔واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے گورنر کو لکھے گئے خط میں اسمبلی کی تحلیل کی تجویز کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اور چوہدری پرویز الہٰی کی جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں اسمبلی تحلیل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔فواد چوہدری نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعلٰی کی ایڈوائس کے بعد گورنر پنجاب 48 گھنٹے کے اندر اسمبلی تحلیل کرنے کے پابند ہیں۔ اگر اْنہوں نے سمری منظور نہ کی تو اسمبلی 48 گھنٹے بعد خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اب وزیرِ اعلٰی پنجاب نگران سیٹ اپ کے لیے پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز شریف سے مشاورت کریں گے۔فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ہفتے کو خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کر دی جائے گی جس کے بعد دونوں صوبے الیکشن کی طرف بڑھ جائیں گے۔وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیاء الرحمٰن کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد عمران خان سے لاہور میں اْن کی رہائش گاہ میں ملاقات کی تھی۔