Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 16th Jan.
لاہور،16جنوری:کراچی اور حیدرآباد ڈویڑن کے 16 اضلاع میں اتوار کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ نتائج کی آمد میں تاخیر پر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جب کہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مینوئل نتائج بننے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔الیکشن کمشنر سندھ ااعجاز انور چوہان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز سے نتائج ریٹرننگ افسران ( آر اوز) کے دفتر پہنچ رہے ہیں جو نتائج مرتب کر رہے ہیں۔ان کے بقول ہر یونین کونسل (یوسی) کے چار وارڈز ہیں اور اوسط 20 پولنگ اسٹیشنز ہیں، ہر آر او کے پاس تقریباً پانچ یو سیز ہیں، ایک بھی پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ نہ آئے تو یوسی کا نتیجہ مکمل نہیں ہوتا۔اصغر سیال نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں چوں کہ کوئی جدید نظام جیسا کہ آر ٹی ایس نہیں ہے اس لیے مینوئل نتائج بنانے میں وقت لگتا ہے جو ایک گھمبیر پراسس ہوتا ہے۔نامکمل، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔کراچی کی 246 میں سے 35 یو سیز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 22، تحریکِ انصاف 11، جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک ایک یونین کونسل کی نشست پر کامیاب ہوئے ہیں۔امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے تقریباً 100 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے اگر جماعتِ اسلامی کے میئر کو آنے سے زبردستی روکا گیا تو تمام آپشنز موجود ہیں۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ ریٹرننگ افسران نتائج نہیں دے رہے لیکن 100 نشستوں پر جماعتِ اسلامی نے فارم 11 حاصل کر لیے ہیں جس کے مطابق ان کی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ جو ریٹرننگ افسران نتیجہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔حافظ نعیم نے کہا “پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن سے کہتا ہوں زبردستی کسی کو اس کے حق سے محروم نہ کریں، پولنگ ختم ہوئے 18 گھنٹے سے زائد گزر گئے ہیں لیکن نتائج نہیں آ رہے، آخری وقت میں جھرلو پھیر رہے ہیں تو اس کی اجازت نہیں دیں گے۔حافظ نعیم اپنی نشست پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور وہ جماعتِ اسلامی کی طرف سے میئر کے امیدوار ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سادہ اکثریت سے اپنا میئر بنا لیں گے، اگر اس کا آپشن ملتا ہے کہ کسی جماعت سے اتحاد کریں تو اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے جس آپشن کو بہتر سمجھیں گے اس کی طرف جائیں۔امیر جماعتِ اسلامی کراچی اور میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمان نے صوبائی حکومت پر بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نتائج مکمل ہونے کے باوجود قانون کے مطابق فارم 11 اور فارم 12 فراہم نہیں کیے جارہے۔ قانون کے مطابق پریزائیڈنگ افسر فارم 11 اور فارم 12 دستخط اور انگوٹھا لگا کر اور اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر دینے کے پابند ہیں۔انہوں نے نتائج میں تاخیر کے حربے استعمال کرنے کی صورت میں شہر بھر میں دھرنے دینے اور الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں اپنی اپنی برتری کا دعویٰ کررہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ نصف شب تک نتائج نہ آنے پر بعض سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے۔سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جن میں پیپلز پارٹی کی برتری نظر آرہی ہے۔نجی نشریاتی ادارے ‘جیو نیوز’ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق کنفیوڑن کے باوجود ٹرن آؤٹ اچھا رہا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما تیمور تالپر نے بھی دعویٰ کیا کہ کراچی کا میئر پیپلز پارٹی سے ہوگا۔جماعتِ اسلامی بھی کراچی میں برتری کا دعویٰ کر رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے کراچی کے امیر اور میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اس وقت تک 100 سے زائد یو سیز میں برتری حاصل کر چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع وسطی، شرقی اور کورنگی سے جماعتِ اسلامی بھاری اکثریت سے جیت رہی ہے۔تحریک انصاف کے رہنما بھی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان کے مطابق پی ٹی آئی کا اصل مقابلہ جماعت اسلامی سے ہے۔ انہوں نے صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی پر دھاندلی کرنے کے بھی الزامات عائد کیے۔سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یونین کونسلز کے چیئرمین ، نائب چیئرمین اور کونسلرز کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی میں 84 لاکھ 37 ہزار 520 رجسٹرڈ اہل ووٹرز ہیں۔انتخابات کے حتمی نتائج کے بعد بلدیاتی نظام کے لیے اگلے مرحلے کاآغاز ہوگا جس میں براہِ راست منتخب ہونے والے ارکان مخصوص نشستوں کے لیے نمائندوں اور بعدازاں میئر ، نائب میئر اور ٹاؤن چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔سندھ میں 2021 کے بلدیاتی قانون کے مطابق کراچی میں سات اضلاع ہیں جنہیں مزید 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان 25 ٹاونز میں مجموعی طور پر 246 یونین کمیٹیاں (یو سیز) ہیں جن کے چیئرمین، نائب چیئرمین اور جنرل کونسلرز کے لیے 15 جنوری کو براہِ راست انتخابات منعقد ہوئے۔انتخابات میں براہِ راست منتخب ہونے والے یوسی چیئرمین کے ایم سی کی سٹی کونسل کے رکن ہوں گے۔