Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17th Jan.
نئی دہلی ،17جنوری: دارالحکومت کے سرکاری اسکولوں میں ریگولر ٹی جی ٹی اساتذہ کی 11 ہزار سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ خالی آسامیاں ریاضی اور سائنس مضامین کے اساتذہ کی ہیں۔ تعلیم کے حق کے قانون کے تحت موصول ہونے والی معلومات کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ 27 دسمبر 2022 تک دہلی کے سرکاری اسکولوں میں کل 11777 آسامیاں خالی ہیں، جن میں ریاضی، سائنس، انگریزی، ہندی، سنسکرت، پنجابی، سماجی سائنس، اردو اور جنرل سائنس ہیں۔ان آسامیوں پر اساتذہ کی عدم تعیناتی کا خمیازہ دسویں جماعت تک کے طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ان مضامین کی کلاسیں یا تو گیسٹ ٹیچر یا کسی اور مضمون کے اساتذہ کے ذریعہ منعقد کی جاتی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر طلباء کو فراہم کی جانے والی تعلیم کے معیار پر پڑتا ہے۔ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے اہلکار نے بتایا کہ اس وقت مہمان اساتذہ ان آسامیوں پر طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔ ساتھ ہی 7000 آسامیاں پروموشن کے ذریعے اور تقریباً 4000 آسامیاں براہ راست بھرتی کے ذریعے پْر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 80 فیصد آسامیاں پروموشن اور 20 فیصد براہ راست بھرتی کے ذریعے پْر کی جائیں گی۔ پروموشن کی تمام پوسٹیں کارپوریشن کے اسکولوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ تاہم کارپوریشن اسکولوں سے اتنے زیادہ اساتذہ دستیاب نہیں ہیں اور کارپوریشن اسکولوں کے زیادہ تر اساتذہ ترقی کرنا بھی نہیں چاہتے۔ ایسی صورتحال میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن بھرتی کے قوانین میں تبدیلی کرے گا۔ ریکروٹمنٹ رولز میں براہ راست بھرتیوں کا کوٹہ 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کیا جائے گا۔گورنمنٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اجے ویر سنگھ یادو نے کہاکہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد ان آسامیوں پر اساتذہ کی تقرری کرے، جو لوگ ترقی کرنا چاہتے ہیں ان کو ترقی دیں۔ چونکہ مہمان اساتذہ اس وقت ان پوسٹوں پر کلاس لے رہے ہیں۔ اس میں وہ مہمان اساتذہ بھی شامل ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے ڈی ایس ایس ایس بی کے امتحان میں شرکت کر رہے ہیں لیکن امتحان پاس کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایسے میں یہ بات قابل غور ہے کہ جو شخص استاد بننے کا امتحان پاس نہیں کر پاتا، کیا وہ بچوں کو پڑھائے گا؟ اگر ڈائریکٹوریٹ ان آسامیوں پر ریگولر اساتذہ کی بھرتی نہیں کرتا تو اس سے طلباء کا تعلیمی معیار خراب ہو جائے گا۔