زلزلہ اہل ایمان کیلے آزمائش اور عبرت ہے، مولانا محمدجمال الدین رشادی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 10th Feb

10۔فروری 2023؁ء نماز جمعہ سے قبل ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمدجمال الدین صاحب صدیقی رشادی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم الدین گنگانگر بنگلور32نے خطبہ جمعہ میںزلزلہ اسباب اور حل کیا ہیں، مو ضوع پر بصیرت افروزخطاب کرتے ہوے فرمایا حالیہ دنوں ترکی اور ملک شام میں آنے والے بھیانک زلزلے، دیگر ممالک میں زلزلے کے جھٹکے اور زلزلے آنے کی پیشن گوئی دنیا بھر کے لوگوں کیلے خاص طور پر ہم اہل ایمان کیلے لمحہ فکر یہ ہے، موجودہ آنے والے زلزلے جس نے ترکی اور ملک شام میں تباہی مچادی ہے، رات گئے آنے والے اس زلزلے نے لوگوں کو بچنے کا موقع ہی نہیں دیا، آن کے آن میں بلندوبالا عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، ہزاروں افراد لقہ اجل بن گئے، ہزاروں افراد زخمی ہیں، خبروں کے مطابق اموات اور زخمیوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوگا ابھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے، اس خطہ میں1939؁ء کے بعد یہ زلزلہ اب تک کی سب سے بڑی تباہی کا سبب ہے، اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح ارشاد فرمایا ہے خشکی اور تری میں مٹی اور پانی میںجو انقلاب برپا ہوتا ہے فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے یہ انسانوں کی بد اعمالی کانتیجہ ہے ہاتھوں کی کمائی ہے، اﷲ تعالیٰ ان کے بعض بد اعمالی کا مزہ ان کو چکھاتے ہیں، مقصد اﷲ رب العزت کا یہ ہوتا ہے، میرے بندے گناہوں سے رک جائیں باز آجائیں، عبرت حاصل کریں اور سچی توبہ و استغفار کرکے اپنی باقی زندگی میرے احکامات کے مطابق گزاریں، مولانا نے دوران خطاب فرمایا جب بھی اس کائنات میں روے زمین پر اس طرح کے حالات پیش آتے ہیں تو عا م طور پر ہماری ظاہری آنکھیں ہر واقع ہونے والے حادثہ کا ظاہری سبب تو تلاش کرتی ہیں مگر ہم اس کی حقیقت کی طرف ذرہ بھر بھی توجہ نہیں دیتے ، ان حالات و حوادثات کے اسباب اور حل کیا ہیں، ہم اچھی طرح سمجھیں یہ نا گہانی آفتیں، یہ زلزلے، یہ گرد آبی طوفان، یہ ژالہ باریاں، سب کے سب انسانوں کے بُرے اعمال ہی کا نتیجہ ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں زلزلے کا جھٹکا محسوس ہوا تو آپؐ نے زمین پر اپنا مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا اے زمین تو ساکن ہوجا، پھرآپؐ نے لوگوں سے کہا تمھارا رب چاہتا ہے کہ تم اپنی خطاوں کی معافی مانگو، اس کے بعد زلزلے کے جھٹکے رک گئے، امیرا لمومنین حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانہ خلافت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تو حضرت عمرؓ نے لوگوں سے خطاب کیا اے لوگو ۱یہ زلزلہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے آیا ہے، حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ کے زمانے میں ایک مرتبہ کوفہ میں زلزلہ آیا تو انھوں نے یہ اعلان کیا لوگو۱ یقینا تمھاراراب تم سے ناراض ہو چکا ہے اور اپنی رضا مندی چاہتا ہے، تم اپنے رب کو راضی کرنے والے اعمال کرو اور رب کے حضور سچی توبہ کرو، اسے یہ پرواہ نہ ہوگی تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو، مولانا نے دوران خطاب فرمایا ہم یاد رکھیں زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات محض عذاب الٰہی نہیں بلکہ یہ اہل ایمان کیلے آزمائش اور عبرت بھی ہے،اس موقع پر پریشان زدہ متاثرین کیلے ہم بارگاہ خداوندی میں دعا کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرماے، دنیا بھر کے جتنے ممالک جن میںہمارا ملک ہندوستان بھی ہے بروقت ترکی اور ملک شام کے متاثرین کیلے راحت رسانی کا فریضہ انجام دیا ہے، ان کی بروقت ہمدردی اور انسانیت نوازی کا مظاہرہ ہم ان سب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ان حالات وحوادثات سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کی حفاظت فرمائے،