Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th Feb
نئی دہلی،11فروری:دہلی کے لیفٹیننٹ رنر وی کے سکسینہ نے عام آدمی پارٹی کے ممبروں کو ڈسکام بورڈ سے ہٹا دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایل جی نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے ممبر غیر قانونی طور پر ڈسکام کے بورڈ میں شامل کئے گئے۔اور ان کی جگہ سرکاری افسروں کو بورڈ میں شامل کیاگیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی طرف سے اس کی ترجمان جاشمین شاہ اور ممبر پارلیمنٹ کے بیٹے اس بورڈ میں ممبر نامزد کئے گئے تھے۔ ایل جی نے ایک حکم نامہ کے ذریعہ ان کو بورڈ سے ہٹا دیا۔ رپورٹ میںکہا گیا کہ عام آدمی پارٹی کے ممبران نے نمائندوں سے مل کرپرائیویٹ کمپنی کو آٹھ ہزار کروڑروپے کا فائدہ پہنچایا ہے لیکن عام آدمی پارٹی نے اس حکم نامے کو غیر قانونی اور غیر دستوری بنادیا اور کہا کہ صرف منتخب حکومت کو ہی صارفین کو بجلی مہیا کرنے کے سلسلے میںاختیار ہے۔انہو ںنے کہا کہ ایل جی نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ دہلی گورنمنٹ کو ڈسکام کمپنی میں 39فیصدی کی حصہ داری ہے۔ ڈسکا م میں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں ۔بی وائی پی ایل ،بی آر پی ایل اور این ڈی پی ڈی سی ایل شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے نمائندوں کے بجائے اب اس کمپنی بورڈ میں بجلی کے خزانہ سکریٹری ہوںگے۔ اس سے پہلے جاشمین شاہ کو پچھلے سال دہلی حکومت کی تھنک ٹینک ڈائیلا گ اور ڈپولیمنٹ کمیشن کے وائس چیئر مین کے عہدے سے ہٹادیاگیا۔ان پر یہ الزام تھا کہ اس نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔اس کی آفس کو بند بھی کردیاگیا۔

