Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th Feb
اسلام آباد،11فروری:پاکستان کی معیشت دن بدن ابتر ہی ہوتی جارہی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈز میں بھی شہباز حکومت کو قرض دینے کے لئے سخت شرائط عائد کئے۔ بین الاقوامی مالی ادارے پاکستان کی حکومت سے ناخوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں نے ان کے ساتھ جو وعدے کئے وہ پورے نہیں کئے۔ اس وجہ سے پاکستان میں10میں قیام کے دوران بھی آئی ایم ایف نے قرض دینا منظور نہیں کیااور اگر حالات ایسے ہی رہے تو پاکستان دیوالیہ کے قریب پہنچے گا۔ حالانکہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اوراس کی ٹیم نے آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ کئی میٹنگیں کی لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں اور جو انہوں نے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی شرط رکھی ہے اس سے پاکستان کی حکومت کو ماننے سے ہچکچا رہے تھے۔ پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بعد میں وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی حکومت کو امید تھی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جمعرات کی رات کو معاہدہ ہوگا لیکن وہ نہیںہوپایا اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈز کا مشن واپس روانہ ہوا۔ ان معاشی حالات پر قابو پانے کے لئے حکومت کو 170ملین کا ٹیکس وصول کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ جو مختلف طبقات کو سبسڈی دی جارہی ہے اس کو بھی واپس لینی پڑے گی۔ حکومت نے جی ایس ٹی کا ریٹ بڑھا نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس دوران ملک میں ڈالر کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے امریکی کرنسی کی قدر بڑھ گئی ہے۔ درآمدات کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے صنعتی خام مال میں کمی آجائے گی اور وہ تعطل کا شکار ہوںگے ۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے اپنے بیان میں کہا کہ موصولات میں اضافے کے اقدامات کے بعد ہی آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کرے گی۔ شہباز شریف کی حکومت پچھلے کئی مہینوں سے عوام پر مزید ٹیکس لگانے کے معاملے میں اترا رہی تھی۔کیونکہ مہنگائی آسمان کو چھو گئی ہے اور غریب عوام کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ پاکستانی روپیہ کی قیمت میں بہت کمی آئی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت278روپیہ پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی حکومت کو بیرونی قرضہ کی ادائیگیوں میں دیری کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے عالمی ادارے کے ساتھ سمجھوتہ کیاتھا لیکن اس کی پاسداری نہیں کی جس کی وجہ سے ہمیںمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کہا کہ اس کے بغیر ہمیں کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

