شام میں امریکہ کا حملہ، داعش کا سینئر رہنما مارا گیا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb

دمشق،18فروری:جمعہ کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے شمال مشرقی شام میں ایک ہیلی کاپٹر حملے میں داعش کے ایک سینئر رہنما کو ہلا کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکی سینٹ کام نے کہا کہ یہ آپریشن داعش رہنما حمزہ الحمصی کو مارنے کے حوالے سے کامیاب رہا۔ شام میں کارروائی کے دوران 4 امریکی فوجی زخمی بھی ہوگئے تھے۔ امریکی افواج جو شدت پسند تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کر رہی ہیں شمالی اور شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے زیر کنٹرول علاقوں میں تعینات ہیں۔امریکی افواج نے کئی کارروائیوں میں رہنماؤں کو ختم کرنے یا گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کارروائیوں میں سب سے نمایاں اکتوبر 2019 میں ’’ دولت اسلامیہ شام و عراق ‘‘ کے رہنما ابوبکر البغدادی کو ہلاک کرنے والے کارروائی تھی۔ اس کے بعد گزشتہ فروری میں شمال مغربی شام کی ادلب گورنری میں کی گئی کارروائی نمایاں تھی جس میں ابو ابراہیم القرشی کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس تنظیم نے گزشتہ دنوں زلزلے کی وجہ سے ہونے والی افراتفری کا فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ اس نے 12 فروری کو وسطی شام میں ایک حملہ کیا ہے جس میں حکومتی فورسز کے ایک رکن کے علاوہ دس شہری مارے گئے تھے۔آبزرویٹری نے اس وقت کہا تھا کہ تنظیم نے تقریباً 75 افراد پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ’’حمص‘‘ کے مشرقی دیہی علاقوں میں ’’تدمیر ‘‘کے علاقے میں ٹرفلز جمع کرنے کا کام کر رہے تھے۔ 2019 میں داعش کے خاتمے اور اس کے کنٹرول کے تمام علاقوں سے محروم ہونے کے اعلان کے بعد سے شدت پسند تنظیم شام کے صحرا کی طرف پسپائی اختیار کر گئی ہے۔ یہ علاقے حمص (وسطی) اور دیر الزور (مشرق) کے گورنریٹس کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ عراق کے ساتھ سرحد کے ساتھ ہے جہاں داعش کے جنگجو پہاڑی علاقوں میں داخل ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق تنظیم وسطی شام کے دور دراز دیہی علاقوں کے رہائشیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے جو ٹرفل جمع کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔ داعش کے عسکریت پسند ان افراد پر حملہ کرتے ہیں۔