Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb
کابل ،18فروری:طالبان رہنمائوں میں اختلافات منظر عام پر آئے جب اس کے ایک طاقتور رہنما اور وزیرداخلہ سراج الدین حقانی نے حکومت کے سربراہ ہیب اللہ اخوند کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران ہیبت اللہ اخوند گوش نشین رہے اورملکی معاملات پر کبھی اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ طالبان قیادت کس طریقے سے فیصلہ لیتی ہے یہ بھی کسی کو ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے لیکن کچھ مہینوں سے ہیبت اللہ اخوند زادہ خواتین کی تعلیم پر پابندی لگانے کے معاملے میں پیش پیش رہے۔جس کی وجہ سے بین الاقوامی برادری موجودہ قیادت سے بیزار ہوگئے۔ مسٹر سراج الدین حقانی نے کہا کہ اقتدار کوچند آدمیو ںکی گرفت میں رکھنا حکومتی الزام کے لئے ٹھیک ہے اور اس صورتحال کو برداشت نہیں کیاجائے گا ۔ طالبان اب اقتدار میں ہے اور ان پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہونا چاہئے ان کے اس بیان کے بعد حکومت کے ترجما ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سراج الدین حقانی کواپنے خیالات کا اظہار عوام کے سامنے نہیں کرنا چاہئے اگر کوئی شخص امیریا کسی وزیر کے خلاف تنقید کرنا چاہتا ہے تو ان کو براہ راست بات کرنی چاہئے۔ ہیبت اللہ اخوندزادہ اپنا زیادہ تر وقت قندھارمیں ہی صرف کررہا ہے اور وہ زیادہ تر مذہبی رہنمائوں کے ساتھ ہی تبادلہ خیال کرتا ہے جن میں سے اکثر تعلیمی نسواں کے خلاف ہے۔امریکہ نے سراج الدین حقانی کے سرپر10ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا ہے ان کے اس بیان سے طالبان رہنمائوںمیں اختلافات پیش آئے۔ طالبان حکومت کے وزراء میں تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں بھی اختلافات نظر آرہے ہیں۔ ایک طرف ہیبت اللہ اخوند زادہ دہشت گرد تنظیم کو ہرقسم کی سہولیت دینے کو تیار ہے۔ جبکہ دوسری طرف ان میں سے کچھ عناصر اس دہشت گرد تنظیم کے ساتھ علیحدگی کی وکالت کرتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیا ں بڑھائی ہے۔ ان کے دہشت گردو ں نے کل شام پاکستان میں پولیس دفتر پر حملہ کیا جبکہ دو ہفتہ پہلے پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں 100سے زائد لوگو ںکو ہلاک کیا۔ پاکستان بار بار افغانستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو پناہ گاہ نہ دے لیکن ان کی بات کی توجہ نہیں دے جارہی ہے اور ان پر برابر حملے کررہے ہیں۔

