Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb
نئی دہلی،18فروری:مرکزی سرکار نے دہلی وقف بورڈ کی 123جائیداد کواپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور کہا کہ اب وقف بورڈ کو ان جائیداد پرکوئی کنٹرول نہیں ہے اور اس کے فوراً بعد دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان نے مرکزی سرکار سے درخواست کی کہ وہ اس حکم نامے کو واپس لے اور ان جائیداد کا معائنہ نہ کرے۔ مرکزی سرکار کی شہری آبادی وزارت نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ نے اس سلسلے میں کوئی بھی عذرنہیں پیش کیا ہے حالانکہ انہیں دو بار خط کے ذریعہ اطلاع بھی دی گئی ہے۔ مرکزی سرکار نے ان جائیداد کے سلسلے میں دو رکنی کمیٹی بنائی ۔ان جائیدادوں کو منموہن سنگھ کی حکومت میں دہلی وقف بورڈ کے حوالے کیا لیکن اس کے فوراًبعد وشو ہندو پریشد نے ان پر اعتراضا ت اٹھائے اور دہلی ہائی کورٹ نے ایک پٹیشن بھی دائر کی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ترقیاتی وزارت نے سابق ہائی کورٹ کے جج کی قیادت میں ایک دورکنی کمیٹی بنائی۔ جس میں کہاگیا کہ وقف بورڈ میں ان جائیداد کو اپنی تحویل میں رکھنے کے لئے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔دہلی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں ایک اپیل بھی دائر کی جو ابھی زیر سماعت ہے۔

