ایشیا کپ میں ہندوپاک میچ نہ ہوئے تو بڑی’ڈیل‘ مشکل میں پڑ سکتی ہے

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb

کراچی ، 18فروری : اگر ایشیا کپ کی میزبانی کے معاملہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوئی حل تلاش نہ کیا گیاتو ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) اور براڈکاسٹر کے درمیان میڈیا رائٹس کا ایک طویل عرصہ سے جاری معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ایشیا کپ کی میزبانی کے حقوق پاکستان کو دیئے گئے تھے لیکن پڑوسی ممالک کے درمیان موجودہ سیاسی تناؤ کے باعث بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے کہا کہ ہندوستان ستمبر میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے ٹیم نہیں بھیجے گا۔ہندوستان نے اس براعظمی مقابلے کو متحدہ عرب امارات یا سری لنکا میں منعقد کرانے کی بات کی ہے۔لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ابھی تک اس مطالبے پر اتفاق نہیں کیا جس کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ ایشیا کپ سے ہندوستان کی دستبرداری ٹورنامنٹ کی رونق چھین لے گی اور پاک بھارت مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے براڈکاسٹر کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ذرائع نے بتایا کہ اے سی سی اور براڈ کاسٹر کے درمیان طویل مدتی معاہدے کے تحت یہ لازمی ہے کہ علاقائی ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان اور بھارت کم از کم دو یا تین بار آمنے سامنے ہوں۔ ذرائع نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے میچوں کے بغیر ایشیا کپ کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ براڈکاسٹرز کو اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ روایتی حریف فائنل سے پہلے کم از کم دو بار آمنے سامنے ہوں گے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات میں 2022 کے ایشیا کپ کے دوران ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے میچز کے بغیر براڈکاسٹر کا معاہدہ کا توازن بگڑ سکتا ہے ۔