! اویسی کا انکشاف اور الزام: ہریانہ میں دو مسلم نوجوان کو زندہ جلانے والوں میں سے ایک ملزم کی تصویر امت شاہ کے ساتھ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb

نئی دہلی، 18فروری : راجستھان کے دو نوجوانوں کو ہریانہ کے بھیوانی میں زندہ جلا کر قتل کئے جانے کے معاملہ میں اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں نے اس واردات کو انجام دیا ان میں میں سے ایک ملزم وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ تصویر کھنچوا چکا ہے۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ ناصر اور جنید کے اغوا اور قتل کی ایف آئی آر میں نامزد 6 لوگوں میں سے ایک ملزم کی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ تصویر ہے، یہ تصویر دو سال پرانی ہے، جس میں وہ انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہا ہے۔ ہریانہ حکومت اس گروپ (بجرنگ دل) کو تحفظ دیتی ہے، پولیس ان سے ڈرتی ہے۔اس سے قبل جمعہ کو بھی اویسی نے ان دو نوجوانوں کے قتل کو لے کر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے اور ہریانہ حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جنید اور ناصر کے قتل کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ اقلیتوں کو ہدف بنا کر کیا گیا تشدد ہے۔ ملک میں ایک تنظیم کے لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ میں بی جے پی حکومت اور پی ایم مودی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے یا نہیں؟اویسی نے کہا کہ بی جے پی شدت پسند عناصر کو فروغ دے رہی ہے جو لوگوں کو مار رہے ہیں اور نام نہاد ’گئو رکشا‘ کی آڑ میں پیسے وصول کر رہے ہیں، ایسے لوگوں کی تشہیر کو بند کر دینا چاہئے۔ خیال رہے کہ راجستھان کے بھرت پور کے دو نوجوانوں کی جلی ہوئی لاشیں ہریانہ کے بھیوانی میں ایک بولیرو کار سے برآمد ہوئی ہیں۔ مہلوکین کی شناخت ناصر (25) اور جنید عرف جونا (35) کے طور پر ہوئی ہے۔