Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb
دہلی کے میئر کے انتخابات 22 فروری کو ہونے جا رہےہیں۔ اس سلسلے کا نوٹس جاری کر دیا گیاہے۔ نوٹس سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں جاری ہوا ہے۔فیصلے کی وجہ سے عام آدمی پارٹی نے راحت کی سانس لی ہے۔ اب نامزد ارکان میئر کے انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ عام آدمی پارٹی کی بھی یہی خواہش تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی ہدایت دی تھی کہ میئر کے انتخاب کے لیے پہلی میٹنگ کے لیے 24 گھنٹے کے اندر نوٹس جاری کیا جائے۔ 13 فروری کو میئر الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے زبانی ریمارکس میں کہا تھا کہ نامزد ارکان ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ اس کے قبل 8 فروری کو سپریم کورٹ نے دہلی کے ایل جی آفس، پریذائیڈنگ آفیسر اور دیگر متعلقین سے میئر انتخاب کے معاملے میں دائرعرضی پر سماعت کے دوران جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ اس معاملے میں، عام آدمی پارٹی کی میئر عہدے کی امیدوار شیلی اوبرائے کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں میئر انتخابات کے جلد انعقاد اور نامزد اراکین کو ووٹ دینے کی اجازت دینے کے خلاف درخواست کی گئی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب میئر کے انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا کر دیاگیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایم سی ڈی ہاؤس میں 22 فروری کو صبح 11 بجے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔عام عادمی پارٹی کورٹ کے اس فیصلے کو جمہوریت کی جیت مان رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عام آدمی پارٹی کےموقف پر اپنی مہر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان کے نامزد ارکان ڈپٹی میئر اور قائمہ کمیٹی کے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی زیرقیادت بنچ نے آئین کے آرٹیکل۔243 آر اور دہلی میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) ایکٹ کے سیکشن۔3(3) کا حوالہ دیکر کہا ہےکہ نامزد ممبر میٹنگ میں حصہ نہیں لےسکتے، کیونکہ انھیں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔سپریم کورٹ نے ایل جی کے دفتر میں پیش ہونے والے وکیل کی اس دلیل کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ نامزد اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہلی کے میئر کا انتخاب ایم سی ڈی کی پہلی میٹنگ میں ہونا چاہیے اور ایک بار میئر منتخب ہونے کے بعد میئر ہی ڈپٹی میئر انتخاب کے لیے پریزائیڈنگ افسر میئر ہی ہوگا۔
واضح ہو کہ اس مقدمے میں عرضی گزار شیلی اوبرائے کے وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیل دی تھی کہ آئین کے آرٹیکل 243 آرمیں یہ شرط بالکل واضح ہے کہ نامزد ارکان ووٹ نہیں دے سکتے ہیں۔ نیز، میونسپل کارپوریشن ایکٹ، 1957 کے سیکشن-3(3) کے تحت بھی یہ بندو بست ہے کہ نامزد اراکین ووٹ نہیں دے سکتے۔ ڈی ایم سی ریگولیشن کے تحت ایک شق ہے کہ میئر ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر کے انتخاب کے دوران پریذائیڈنگ آفیسر ہوگا۔ ایسی صورت میں پہلے میئر کا انتخاب ہونا چاہیے اوراس کے بعد ڈپٹی میئر اور سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر کا انتخاب ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ایم سی ڈی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے دلیل دی تھی کہ ایم سی ڈی میٹنگ اور پہلی میٹنگ میں فرق ہے۔ ہر کسی کو پہلی میٹنگ میں ووٹ دینے کا حق ہے۔ سالیسٹر جنرل ایل جی کی جانب سے پیش ہوئے اور کہا کہ ایم سی ڈی ایکٹ کی دفعہ 33 میں کہا گیا ہے کہ تمام ممبران پہلی میٹنگ میں ووٹ دے سکتے ہیں۔
دہلی کے میئر انتخاب کے معاملے میں عام آدمی پارٹی کی امیدوار شیلی اوبرائے کی جانب سے دوسری بار سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ شیلی نے اپنی پہلی درخواست واپس لے لی تھی ،جب 6 فروری کو میئر کے انتخابات کرانے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ لیکن، 6 فروری کو جب نامزد ارکان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تو ہنگامہ ہوا اور ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی تھی۔ ایم سی ڈی کے پریذائیڈنگ آفیسر ستیہ شرما نے کہا تھا کہ میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کے انتخابات ایک ساتھ ہوں گے۔ اس کے علاوہ نامزد ارکان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی، جس کی عام آدمی پارٹی نے جم کر مخالفت کی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ کل وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایل جی وی کے سکسینہ کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط کے ذریعہ گزارش کی گئی تھی کہ میئر کےانتخابات 22 فروری کو کرائے جائیں۔ مطالبہ منظور ہو گیا ہے ۔ بہت ساری رکاوٹوں کے بعد 22 فروری کوانتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ حالانکہ میئر کےانتخابات کے لئے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان کافی دنوں سے رسہ کشی جاری تھی۔ بی جے پی مسلسل مطالبہ کر رہی تھی کہ انتخابات کے دوران نامزد رکن یعنی ایلڈرمین کو بھی ووٹ کا حق ہونا چاہیے، لیکن عام آدمی پارٹی کی طرف سے مسلسل اس کی مخالفت کی جا رہی تھی۔دریں اثنا دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جمہوریت کی جیت قرار دیا۔دھیان رہے کہ ایم سی ڈی کے انتخابات کے نتائج گزشتہ 7 دسمبر کو سامنے آئے تھے، جس میں134کونسلروں کے ساتھ عام آدمی پارٹی واحد سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی۔ بی جے پی اور کانگریس کے کھاتے میں بالترتیب 104 اور 9 سیٹیں آئی تھیں۔حالیہ جیت کو کیجریوال نے جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے اس کے لئے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

