تین کشمیری طلباء کا کیس اب آگرہ سے سہارنپور کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 19th Feb

سہارنپور،19فروری:کشمیر سے تعلق رکھنے والے آگرہ کالج کے انجینئرکے تین طلباء جنہیں 15مہینے پہلے ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کی جیت پر خوشیاں اور نعرے لگاتے ہوئے گرفتار کیاگیا کا کیس لڑنے سے وکیلوں نے بائیکاٹ کیا اور اسی وجہ سے الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ان کے کیس کو آگرہ سے منتقل کرکے سہارنپور کی عدالت میں بھیج دیا۔آگرہ بار ایسوسی ایشن نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا کوئی بھی ان کشمیری طلباء کی وکالت نہیںکرے گا۔ ان لڑکوں کو کچھ وکیلوں کے ہاتھ مارپیٹ بھی ہوئی۔اور اب انہوں نے الہ ٰ آباد کو یہ درخواست بھی کی کہ ان کے کیس کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے اب ان کا کیس سہارنپور کی عدالت کو سونپا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ حالات کو مد نظر رکھ کر اس کیس کو دوسر ی عدالت میں سنوائی کے لئے بھیجا جارہا ہے۔ اب یہ سہارنپور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوگا۔ سہارنپور بار ایسوسی ایشن کے صدر اروند کمار نے کہا کہ انصاف حاصل کرنا ہرایک کا حق ہے۔ ارشد یوسف ،عنایت الطا ف شیخ اور شوکت احمد گھنائی کے خلا ف واٹس ایپ پر پاکستان کی جیت پرخوشیاں منانے کے لئے 27اکتوبر 2021کو جیل بھیجا گیا۔ ان پر غداری کا مقدمہ بھی درج کیاگیا۔ چھ مہینے بعد انہیں ضمانت دی گئی۔ کچھ وکیلوں نے کہاچونکہ سپریم کورٹ نے تمام غداری کے مقدموں پر روک لگائی ہے اس لئے یہ کیس تقریباً ختم ہوا ہے لیکن ابھی تک اس کیس میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اب چونکہ سہارنپور کی عدالت میں اس کی سماعت ہوگی امید کی جارہی ہے کہ انہیں جلد ہی اس کیس سے آزادی مل جائے گی۔ ان تین میں سے دو طلبا ء نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی صرف شوکت گھنائی ہی تعلیم حاصل کررہا ہے۔