دنیا کی نمبر ون ہندستان میں کیوں ناکام ہو گئی؟ جانیں کچھ وجوہات

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 20th Feb

نئی دہلی ، 20فروری : جب آسٹریلوی ٹیم اس بار ہندوستان کا دورہ کرنے والی تھی، تو کئی تجربہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ اس بارڈر گواسکر ٹرافی میں کنگارو ٹیم جیت سکتی ہے۔ یہ اس لیے کہا جا رہا تھا کہ آسٹریلیا کی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر 1 تھی اور ساتھ ہی ساتھ ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل میں بھی ٹاپ پر تھی۔ یہی نہیں پیٹ کمنز کی کپتانی میں آسٹریلیا کی ٹیم مسلسل سیریز جیت رہی تھی۔جب سے پیٹ کمنز نے آسٹریلیا کی کمان سنبھالی ہے، آسٹریلیا نے بیک ٹو بیک کئی اہم سیریز جیتی ہیں۔ ایشز میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو اکیلے ہی شکست دی تھی۔پاکستان کو اسی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں شکست دی۔ حالیہ دنوں میں وہ جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیسٹ ٹیم کو بھی شکست دے کر ہندوستان کے دورے پر آئی تھیں۔علاوہ ازیں آسٹریلوی ٹیم نے ہندوستان میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کی تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔کنگارو ٹیم نے نارتھ سڈنی میں برصغیر پاک و ہند کی طرح وکٹ تیار کرکے پریکٹس کی۔ بنگلورو میں بھی ٹیم نے ہندوستانی اسپن باؤلنگ کا مقابلہ کرنے کی تیاری کے لیے طرح طرح کے حربے اپنائے تھے لیکن اس سب کے باوجود دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم ہندوستان میں شکست سے دور چارہوگئی۔ اس ٹیم کی شکست کی تین اہم وجوہات تھیں، جو بارڈر-گواسکر ٹرافی 2023 کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ ہار چکی تھی۔آسٹریلوی ٹیم ہندوستانی اسپن اٹیک کا سامنا نہ کر سکی۔ ہندوستانی اسپنرز نے دو ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیا کی 40 میں سے 32 وکٹیں حاصل کی۔ آسٹریلوی بلے بازکو آر اشون اور جڈیجہ نے کوئی وقفہ نہ دیا۔ وہ ان اسپنرز کے سامنے کبھی دفاع میں اور کبھی اٹیکنگ میں وکٹیں گنواتے رہے۔ صحیح معنوں میں آسٹریلوی بلے باز سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ہندوستان کی اس اسپن جوڑی کا سامنا کیسے کریں۔ہندوستان میں ہمیشہ کی طرح آسٹریلیا کو اسپن ٹریک ملا۔ ناگپور اور دہلی کی پچوں پر پہلے دن سے اسپنرز کو مدد ملی۔ آسٹریلوی بلے باز ویسے بھی اسپن کو اچھی طرح سے نہیں کھیل پاتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ہندوستانی پچیں سب سے بڑا چیلنج تھیں۔ حالت یہ تھی کہ ان پچوں پر دونوں ٹیسٹ میچوں میں میچ چوتھے دن بھی نہ پہنچ سکا۔اگر ہم ناگپور اور دہلی میں ٹیسٹ فتوحات پر نظر ڈالیں تو اشون-جڈیجہ اور اکشر پٹیل کی تینوں کو فتح کی ایک بڑی وجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تینوں نے نہ صرف بولنگ تباہ کن کی، بلکہ آسٹریلوی گیند بازوں کو بیٹنگ میں بھی پسینہ بہایا۔ پہلے ٹیسٹ میں جہاں رویندر جڈیجہ اور اکشر پٹیل نے نصف سنچریاں بنا کر ہندوستانی ٹیم کو بڑی برتری دلائی تھی وہیں دوسرے ٹیسٹ میں اکشر نے اشون کے ساتھ مل کر سنچری شراکت داری کرکے ٹیم انڈیا کو مشکل صورتحال سے نکالا۔ ان تینوں آل راؤنڈرز کی وجہ سے ہندوستانی ٹیم کو 9ویں آرڈر تک بیٹنگ میں گہرائی ملی اور آسٹریلیا کا ان تینوں آل راؤنڈرز کو جلد ہی پویلین بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔