برہم پور کے 22 سالہ مزدور روی منڈل کا ہریانہ کے چھوٹورام نگر میں گلاریت کر بہیمانہ قتل، گاوں میں کہرام، والدین کا رورو کر برا حال

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 20th Feb

سنگھواڑہ دربھنگہ ( محمد مصطفی)
کمتول تھانہ کے برہم پور مشرقی پنچایت کے وارڈ 2 منڈل ٹولی رہائشی ناگیندر منڈل کے 22 سالہ بیٹے روی کمار منڈل کا ہریانہ کے چھوٹو رام نگر تھانہ لائن پار، بہادرگڑھ میں گلاریت کر سفاکانہ طور پر قتل کردیا گیا ہے۔اس کی لاش چھوٹو نگر کے کھلے میدان میں پیر کی صبح پائی گئی ہے۔جیسے ہی روی کمار منڈل کے بہیمانہ قتل کی خبر یہاں اس کے گھر برہم پور میں پہنچی کہرام مچ گیا۔مقتول کے بڑے بھائی پپو منڈل نے بھائی کی لاش کی شناخت کرتے ہوئے لائن پار تھانہ کو تحریری درخواست دیکر اسی کے ساتھ کام کرنے والے مقامی چھوٹو رام نگر کے راجوکمار ولد وجئے سنگھ ،سونو ولد ستندرپرساد اور درگانند کو نامزد کرتے ہوئے قتل کا الزام لگایا ہے۔ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ روی کمار کے ساتھ اس کے تینوں ساتھی میرے پاس اتوار کی رات تقریبا 11 بجے پہنچے ۔اس وقت سبھی شراب کے نشے میں تھے۔چاروں میرے روم پر میرے ساتھ کھانا کھائے اور پھر واپس جانے لگے۔میں نے اپنے بھائی روی کمار کو راجو، درگانند اور سونو کے ساتھ جانے سے منع کیا لیکن تینوں ضد کرکے لے گئے۔لیکن روی کمار اپنا موبائل نمبر 7015173719 میرے پاس چھوڑ گیا ۔بعد میں روی نے اپنے ساتھی کے موبائل سے اپنے ہی موبائل پر فون کرکے تینوں کے ساتھ ہونے اور چھوٹورام نگر تھانہ لائن پار جانے کی بات بتائی ۔لیکن پیر کی صبح اس کی لاش ملنے کی خبر آئی ۔اسے پورا اعتماد ہے کہ ان کے تین ساتھیوں نے ہی مارپیٹ کرنے کےبعد گلاریت کر قتل کردیا۔ ایسا بتایا گیا ہے کہ 12 بجے رات میں وہ اپنی بہن کے پاس بھی ساتھیوں کے ساتھ پہنچا تھا ۔جس جگہ لاش پائی گئی ہے اسی کے قریب اس کی بہن سونی دیوی رہتی ہے۔پوچھے جانے پر لائن پار تھانہ کے سب انسپکٹر راجندر کمار نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔سبھی ملزمین فرار ہیں۔لاش کو پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد اس کے متعلقین کے حوالے کردیا گیا ہے۔مقتول 5 بھائی اور 2 بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا ۔وہ پچھلے 8 سالوں سے چھوٹو رام نگر میں ہی ایک اسپورٹس شو کی کمپنی میں جوتے بنانے کا کام کرتا تھا۔ڈیڑھ سال سے وہ گھر نہیں آیا تھا۔بڑا بھائی پپو منڈل گاڑی ڈرائیور ہے جو ایکسیڈنٹ کے بعد وہیں بہادرگڑھ میں رہتے ہیں۔اس کے والد ناگیندر منڈل گھر پہ ہی رکشہ چلا کر معاشی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔5 بیٹوں میں 4 بیٹے ہریانہ میں ہی الگ الگ کام کرتے ہیں ۔وہ تین بیٹوں اور 2 بیٹیوں کی شادی کرچکے ہیں۔شادی شدہ چھوٹی بیٹی سونی دیوی بھی بہادرگڑھ میں اپنے بال بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔ناگیندر منڈل کے مطابق پیر کی صبح 7 بجے کے قریب ہی چھوٹو رام نگر کے کھلے میدان میں عوامی بھیڑ پر جب میری بیٹی پتہ لگائی تو وہاں گلاریتی ہوئی ایک لاش پڑی تھی جس کی پہچان روی کمار کی شکل میں ہوتے ہی سکتے ہیں آگئی اور اپنے بڑے بھائی اور یہاں گھر برہم پور فون کرکے اندوہناک خبر دی۔روی کی ماں ششی کلا دیوی اور بڑی بہن مینا دیوی کا رورو کر برا حال بنا ہوا ہے۔جبکہ مقتول روی منڈل سے بڑا بھائی راجہ کمار منڈل انٹر کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد گھر پہ ہی سن اسٹار کوچنگ چلا کر بچوں کو پڑھاتا ہے۔اس کو اپنے بھائی کے قتل پر کافی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔اس کے مطابق روی منڈل اپنے سبھی بھائی اور بہن کے ساتھ 1 مارچ کو چچا دینیش منڈل کی لڑکی کنچن کماری کی شادی کے موقع پر گھر آنے والے تھے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔وہ نہ اپنے گھر دیکھ سکا اور نہ ہی چچازاد بہن کی شادی میں شرکت کرنے کے خواب کو پورا کرسکا بلکہ بہادرگڑھ کی مٹی میں ہی دفن ہوکر رہ گیا۔