!امریکا کے ساتھ کشیدگی؛صدرپوتین یوکرین میں چین کے کردارکوسراہتے ہیں

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb

ماسکو،23فروری:روس کے صدر ولادی میر پوتین نے چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی سے ملاقات کے بعد روس اور چین کے تعلقات کی تعریف کی ہے۔وانگ یی نے ان سے گفتگو میں کہا ہے کہ بیجنگ یوکرین جنگ کی سفارت کاری میں ’تعمیری‘ کردارادا کرے گا۔صدر پوتین نے اس پیش کش کا’خیرمقدم‘ کیا ہے۔صدرپوتین نے ماسکو میں وانگ یی سے ملاقات میں کہا:’’روس اورچین کے تعلقات اسی طرح ترقی کر رہے ہیں جیسا کہ ہم نے گذشتہ برسوں میں منصوبہ بندی کی تھی، سب کچھ آگے بڑھ رہا ہے اور ترقی کر رہا ہے‘‘۔سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق انھوں نے کہا کہ ہم نئے سنگ میل عبورکررہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق چین کے صدر شی جِن پنگ آیندہ چند ماہ میں پوتین کے ساتھ ملاقات کے لیے ماسکو کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔چینی وزیرخارجہ نے صدرپوتین کوبتایا کہ بیجنگ یوکرین میں تنازع کے سیاسی حل تک پہنچنے کے مقصد سے ’’تعمیری‘‘کردارادا کرے گا۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا نے وانگ یی کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’چین ہمیشہ کی طرح ایک معروضی اور غیر جانبدارانہ مؤقف پرسختی سے کاربند رہے گا اور بحران کے سیاسی حل میں تعمیری کردار ادا کرے گا‘‘۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے اس ملاقات پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پوتین نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنے پر چین کی آمادگی کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ وہ اس معاملے پربیجنگ کے ‘متوازن نقطہ نظر’ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ترجمان نے کہا ’’ہم یوکرین کے بحران کے حل میں مثبت کردارادا کرنے پرچین کی آمادگی کا خیرمقدم کرتے ہیں‘‘۔واشنگٹن اس ملاقات اور اس کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اس ہفتے کے اوائل میں چین کوخبردارکیا تھا کہ وہ روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیارمہیّا کرنے کے خلاف ہے۔ اس کے جواب میں بیجنگ نے واشنگٹن کو ’مزید کشیدگی‘ پرخبردارکیا تھا۔نیٹو کے سربراہ جینزاسٹولٹن برگ نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ’’چین یوکرین کے خلاف روس کو اسلحہ دے سکتا ہے۔ ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ چین روس کی جنگ کے لیے مہلک مدد مہیاکرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے‘‘۔ولادی میرپوتین نے وانگ یی کے ساتھ عالمی سطح پر بین الاقوامی سیاست کے پس منظرمیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پرتبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے تناظر میں چین اور روس کے درمیان تعاون بین الاقوامی صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔انھوں نے کہا:’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بین الاقوامی صورت حال کیسے تبدیل ہوتی ہے، چین کو امید ہے کہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات، جوبڑی طاقتوں کے مابین ایک نئی قسم کے تعلقات کے طور پردیکھے جاتے ہیں،اچھی رفتار کے ساتھ آگے بڑھیں گے‘‘۔وزیرخارجہ کا یہ دورہ روس اور چین دونوں کے لیے مغرب اور خاص طور پرامریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ پر ہو رہا ہے۔یوکرین پر حملے کے بعد روس کے امریکا اور یورپ کے ساتھ تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں اور ماسکو نے رواں ہفتے واشنگٹن کو اس وقت مزیداشتعال دلانے کی کوشش کی ہے جب اس نے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدے اسٹارٹ میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کردیا۔دریں اثنا، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان ایک اورتلخ تنازع چل رہا ہے جسے’’چینی جاسوس غبارے‘‘کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ امریکی عہدے داروں کے تائیوان کے دورے پربھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔