مجھے پاکستانی ٹیم کی کپتانی کی پیشکش ہوئی تھی، شعیب اختر کا انکشاف

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb

کراچی ،23فروری : پاکستان کرکٹ میں اس وقت شعیب اختر کے بیانات کے حوالے سے سب سے زیادہ سرخیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ شعیب اختر نے اب اپنے ایک بیان کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کا موقع ملا تھا لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ بتا دیں کہ شعیب اختر نے سال 1997 میں انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا۔اپنی برق رفتاری کے باعث عالمی کرکٹ کے خطرناک ترین باؤلرز میں شمار ہونے والے شعیب اختر کا بین الاقوامی کریئر زیادہ دیر تک نہیں چلا۔ انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے 46 ٹیسٹ، 163 ون ڈے اور صرف 15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے ہیں، تاہم بین الاقوامی کرکٹ میں تیز ترین گیند کرنے کا ریکارڈ اب بھی ان کے نام ہے، جو انہوں نے 2003 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کی تھی۔پاکستان کرکٹ میں شعیب اختر کے شائع بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے کپتانی کی آفر سال 2002 میں ہوئی تھی لیکن اس وقت میں مکمل فٹ نہیں تھا۔ اگر ایک سیریز میں 5 میچ کھیلے جائیں تو میں صرف 3 میں کھیل سکا۔ اگر میں تمام میچ کھیلتا تو اس کے بعد میرا کیریئر صرف 1 یا 2 سال میں ختم ہو جاتا۔شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کئی انکشافات کئے۔ جس میں انہوں نے کہا کہ جب انہیں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی مکمل حمایت حاصل تھی، لیکن اس وقت پی سی بی میں سب کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ وہاں کی انتظامیہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہی تھی اور ان کے پاس کھلاڑیوں کو ہینڈل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔دوسری جانب کپتانی کی ذمہ داری نہ لینے کے بارے میں شعیب کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر بھی تیار نہیں ہیں۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے اور آپ کو پہلے اس کے بارے میں مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔