اتحاد کا خواب کیا شرمندۂ تعبیر ہوگا ؟

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Feb

2024کے لوک سبھا انتخابات کے لیے الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، لیکن اپوزیشن اب بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف متحدہ لڑائی لڑنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔ متحدہ محاذ کے قیام کی کوششیں کچھ سیاستداں اپنے اپنے طور پر کررہے ہیں۔لیکن یہ کوششیں کتنی بار آور ہوں گی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔اس درمیان سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے کہا ہےکہ اب وقت آ گیا کہ
ا پوزیشن اتحاد جلد سے سے قائم ہونا چاہئے۔ سلمان خورشید کا یہ بیان بہار کے وزیر اعلیٰ اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار کے اس بیان کے بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کو اب آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ر اہل گاندھی کی’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ پوری ہو چکی ہے۔‘‘ سلمان خورشید کے مطابق بی جے پی کے خلاف تمام پارٹیاں اپنے اپنے طور پر جو کچھ کرنا چاہتی ہیں، وہی کانگریس کا بھی خواب ہے۔ پہلے گجرات ماڈل کی بات ہوتی تھی، لیکن اب یہ بہار ماڈل پر چرچا ہونا چاہئے۔‘‘
مذکورہ بیانوں سے یہ ظاہر ہے کہ جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات قریب آرہے ہیں، بی جے پی کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے صف آراء ہونے کی آوازیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ تاہم یہ اتحاد کس طرف موڑ لے گا، اس کی قیادت کون کرے گا، تمام اپوزیشن پارٹیاں کانگریس کی قیادت میں اکٹھی ہوں گی؟ یہ چند سوالات ہیں، جن کے جواب کے لئے وقت کا انتظار ضروری ہے۔ حال ہی میں راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘کے دوران کچھ اپوزیشن پارٹیاں کھلے عام ایک ساتھ نظر آئیں، لیکن بہت سی علاقائی پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنا کارڈ نہیں کھولا۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ سے کانگریس کے لیے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جو ماحول بنایا ہے اس پر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ممتا بنرجی، کے سی آر، اروند کیجریوال جیسے قائدین کو چند ماہ قبل بی جے پی اور کانگریس مخالف کیمپ میں کھڑے دیکھا گیا تھا۔ اب نتیش کمار کی بات کو دہراتے ہوئے، ادھو ٹھاکرے نے کانگریس کی ہمنوائی کی ہے۔ ادھوگروپ کے آرگن ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہو کر بی جے پی کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود کانگریس ابھی کسی ہڑ بڑی میں نہیں دکھائی دے رہی ہے۔شاید وہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کی ہمنوائی کا انتظار کر رہی ہے۔
ایک طرح سے ادھو گروپ نے کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے لیے زمین تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اخبار ’’سامنا‘‘ میں لکھا گیا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے۔چندر شیکھر راؤ اپنی اپنی ریاستوں میں بی جے پی سے لڑ رہے ہیں۔مگر اس میں یہ سوال بھی پوچھا گیا ہے کہ کانگریس سے نفرت کرکےاپوزیشن پارٹیاں بی جے پی سے کیسے لڑیں گے؟ ادھو د گروپ نے اپوزیشن کو پیغام دیا ہے کہ مشن 2024 کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر جلد از جلد حکمت عملی بنانا ہوگی۔’’سامنا‘‘ میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار کون ہوگا، یہ معاملہ بعد میں بھی حل ہوسکتا ہے۔ بی جے پی مخالف سیاسی قوتوں کو جلد از جلد ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔ دراصل مہاراشٹر میں، ادھو گروپ کانگریس کا حلیف ہے۔ حال ہی میں، پارٹی کا نام اور انتخابی نشان کھونے کے بعد، ادھو گروپ اب 2024 کے لیے محاذ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
دریں اثنا میگھالیہ جاکر راہل گاندھی نے ممتا بنرجی پر حملہ کردیا۔بر سبیل تذکرہ انہوں نےکہہ دیا کہ لوگ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی روایات، تشدد اور گھوٹالوں سے واقف ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ٹی ایم سی نے گوا کے انتخابات میں بہت زیادہ خرچ کیا، وہ میگھالیہ میں بی جے پی کو جیتنے کے لیے ایسا ہی کر رہی ہے۔ ٹی ایم سی کہاں خاموش رہنے والی تھی۔ ترنمول کانگریس کے ایم پی ڈیرک اوبرائن نے تصویریں شیئر کرتے ہوئے راہل کو نشانہ بنایا ہے۔ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ میگھالیہ میں راہل گاندھی کی انتخابی ریلی میں لوگ نہیں تھے جب کہ ممتا بنرجی کی ریلی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔واضح ہو کہ جب بنگال کے انتخابات میں ممتا بنرجی نے بی جے پی کو شکست دی تھی، تب انہیں 2024 کی اہم دعویدار سمجھا جاتا تھا ،لیکن بھر جلد ہی معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔
ادھر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا دعویٰ ہے کہ 2024 میں، کانگریس پارٹی اتحادیوں کے ساتھ مل کرمشترکہ طور پر حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کئی جلسوں اور ریلیوں میں کہا ہے کہ 2024 میں مرکز میں کانگریس کی قیادت میں مخلوط حکومت بنے گی۔ کھڑگے بھی اپوزیشن اتحاد کے حق میں ہیں اور اب سب کی نظریں رائے پور میں ہونے والے کانگریس اجلاس پر لگی ہوئی ہیں۔ وہاں اپوزیشن اتحاد کا فارمولا طے ہو سکتا ہے۔ دو دن پہلے انہوں نے ناگالینڈ میں کہا تھا کہ مرکز میں کانگریس کی قیادت والی اتحاد اقتدار میں آئے گا۔ ہم دوسری جماعتوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔لیکن اس دعوے میں کتنا دم ہے ، اس کا اندازہ چند دنوں کے بعد ہی ہو سکے گا۔خاص طور پر تب جب اتحاد کے لئے ابھی تک کچھ بھی نہیں ہو سکا ہے۔