Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 26th Feb
پٹنہ: ۲۶؍فروری۲۰۲۳ء : بہار بالخصوص مگدھ ایک زمانے میں علم و ادب کا گہوارہ تھا اور دور دراز علاقوں سے لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔علم فلکیات میں بھی اس نے گراں قدر خدمات انجام دی۔اس موقع پرڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا کہAstronomy میں بھی بہارنے گراں قدر خدمات انجام دی، خدا بخش لائبریری میں علم فلکیات پر عربی اور فارسی کے اہم اور قیمتی مخطوطات موجود ہیں اور چند اہم آلات نجوم میوزیم ہال میں نمائش کئے گئے ہیں۔ چونکہ مگدھ سے علم نجوم کا ایک خاص لگاؤ رہا ہے، اسی مناسبت سے ڈاکٹر آنند موہن، سائنٹسٹ، میموریل یونیورسٹی، کناڈا کو اس اہم موضوع پر لکچر دینے کے لئے مدعو کیا گیا تاکہ ان کے افکار و خیالات سے ہم واقف ہو سکیں، اس اعتبار سے یہ لکچر کافی مفید ہوگا۔
ڈاکٹر آنند موہن نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ بہار کی آج کی صورت حال سے علم نجوم میں مگدھ کی خدمات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آریہ بھٹ نے تئیس برس کی عمر میں آریہ بھٹا کتاب لکھی۔ دنیا میں آج کل یوروپین ماڈل پڑھایا جاتا ہے حالانکہ اس موضوع پر جو پڑھایا جاتا ہے، وہ ادھورا پڑھایا جاتا ہے۔ پٹنہ کے علم نجوم کی تاریخ پانچ سو بی سی سے شروع ہوتی ہے اور یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی تک جاری رہتا ہے۔ اور یہ بہار کے لئے فخر کی بات ہے۔ آریہ بھٹ ماڈل پوری طرح مکمل ہے اور کیپلر ماڈل سے زیادہ مفید ہے۔ پنڈت نہرو نے اپنے دور میں سائنس کو جتنا بڑھا وا دیا، ان کے بعد کوئی بھی ان سے آگے نہ نکل سکا۔ زمین گردش کرتی ہے، اس نظریہ کو دنیا میں حیرت سے دیکھا گیا تھا، آریہ بھٹ نے بھی اسی نظریہ کو پیش کیا۔ کیپلر کے مقابلے میں آریہ بھٹ کے اصول زیادہ اچھے ہیں لیکن پڑھایا جا رہا ہے کیپلر اصول۔ اس کے بعد انھوں نے سولر انرجی سے جو ٹھیلا اور رکشا بنایا تھا، اس کے بارے میں معلومات فراہم کی اور اس کے نمونے دکھائے۔انھوں نے ساتھ ہی بجلی کی پیداوار کو کیسے بڑھایا جائے اور وہ بھی بغیر کوئلے اور پٹرولیم کے استعمال کے ۔ کس طرح بجلی پیدا کرکے Industralizatoinکو بڑھاوا دیا جائے اور پھر بے روزگاری کو کم کیا جائے۔ سولر انرجی کا کس طرح مکمل استعمال ہو اور ملک میں بہتری لائی جائے۔موصوف کا زور اس بات پر تھا کہ تاروں کے مطالعہ سے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے جیسے کہ بجلی اور گرمی اور اسی سے مشینوں کا چلنا اورTransportaion سہل اور سستے ہو سکیں، ان باتوںکا انھوں نے تفصیلی جائزہ لیا اور واقفیت دی کہ کس طرح علم نجوم سے زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔آخر میں اسکالرس اور طالب علموں نے چند سوالات کئے جن کے تشفی بخش جواب دئے گئے۔

