ترکی زلزلے میں عمارات منہدم ہونے پر ٹھیکے داروں، مالکان اور حکومتی حکام سمیت 184 افراد گرفتار

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 26th Feb

استنبول،26فروری : ترکی میں چھ فروری کو آنے والے زلزلے کے بعد حکومت نے منہدم ہونے والی عمارات کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے 600 افراد کو تفتیش میں شامل کر لیا ہے۔سینیچر کے دن ترکی کے جسٹس منسٹر بیکر بزداگ نے کہا کہ ایک سو چوراسی ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں ان عمارتوں کو تعمیر کرنے والے ٹھیکے دار اور ان کے مالکان شامل ہیں۔واضح رہے کہ ترکی میں گذشتہ کئی سال سے ماہرین خبردار کر رہے تھے کہ ملک میں کرپشن اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے متعدد رہائشی عمارات غیر محفوظ ہیں۔ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد اب تک 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ترکی کے جسٹس منسٹر بیکر بزداگ نے یہ بیان ملک کے جنوب مشرقی حصے میں دیا تھا جہاں پہلے زلزلے کے فوری بعد ایک اور جھٹکا بھی محسوس ہوا تھا۔ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تفتیش کا دائرہ کتنا وسیع ہو چکا ہے۔ دو ہفتے قبل ترکی کے حکام نے بتایا تھا کہ 113 افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔اب تک جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ترکی کے میڈیا کے مطابق ایک ایسے شہر کے میئر بھی شامل ہیں جس کے قریب زلزلے کے جھٹکوں سے نقصان ہوا تھا۔ترکی میں حزب مخالف جماعتوں اور تعمیراتی شعبے سے منسلک ماہرین نے ملک کے صدر اردوغان کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ قوائد و ضوابط لاگو کرنے میں ناکام رہے اور اب اس حادثے کے بعد ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت ٹھیکے داروں کو رعایت دی گئی تاکہ تعمیراتی شعبے میں ترقی ہو سکے لیکن ان ٹھیکے داروں نے تعمیرات کے دوران قوائد و ضوابط کی پابندی نہیں کی خصوصا ایسے علاقوں میں جہاں زلزلہ آنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ترکی کے صدر اردوغان نے تسلیم کیا ہے کہ حکومت کی چند کمزوریاں تھیں تاہم بظاہر انھوں نے اس قدرتی آفت کے بعد ہونے والی تباہی پر قدرت کو مورد الزام ٹھہرایا۔انھوں نے زلزلے کے بعد بیان دیا تھا کہ ’ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ مقدر کی بات ہے۔‘یاد رہے کہ ترکی میں الیکشن ہونے والے ہیں اور 20 سالہ دور اقتدار کے بعد صدر اردوغان کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان کی جانب سے ملک میں اتحاد پیدا کرنے کی درخواست کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔