Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th Feb
نئی دہلی،27فروری: بائیک ٹیکسی ڈرائیوروں نے ہفتہ کو ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے دہلی میں بائیک ٹیکسیوں کے آپریشن کو روکنے کے لئے جاری کردہ نوٹس کے خلاف احتجاج کیا۔ دہلی کی این جی او ایمپاورنگ ہیومینٹی کے زیر اہتمام 100 سے زائد بے روزگار بائیک ٹیکسی سواروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ان میں تینوں ایگریگیٹرز اولا، اوبر اور Rapido سے وابستہ ڈرائیور شامل تھے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر’روکو نہیں کمانے دو، بائیک ٹیکسی چلے دو‘اور’لکھوں کا سہارا بائیک ٹیکسی ہمارا‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین مالویہ نگر علاقے کے کھرکی ایکسٹینشن میں واقع جامن والا پارک میں ایس ڈی ایم کے دفتر کے قریب جمع ہوئے۔ وہاں سے ان لوگوں نے اپنے مطالبات کا میمورنڈم سول لائنز میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے ہیڈ کوارٹر کے حوالے کیا۔بائیک ٹیکسی ڈرائیور دیپک راوت کا کہنا تھا کہ جب سے کارروائیوں پر پابندی لگائی گئی ہے، وہ پریشان رہنے لگے ہیں کہ اب ان کا گھر کیسے چلے گا۔ دیپک کے مطابق وہ بائیک ٹیکسی چلا کر روزانہ پانچ سے چھ سو روپے کماتا تھا۔ وہ خوش تھا کہ محنت اور ایمانداری سے وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرتے ہیں لیکن اب اچانک پابندی کے بعد انہیں روزی روٹی کے بحران کا سامنا ہے۔ایک اور بائیک ٹیکسی ڈرائیور دیویندر کمار نے کہا کہ آج کل بازار میں نوکریوں کی کمی ہے۔ اب حکومت نے ہمارے ذریعہ معاش پر بھی پابندی لگا دی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوان سڑک پر آگئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ان کے ایک دوست سنجے نے بائیک ٹیکسی چلانے کے لیے دو ماہ قبل قرض پر بائیک خریدی تھی۔ اب وہ پریشان ہے کہ بائیک ٹیکسیوں پر پابندی کے بعد وہ قرض کی قسطیں کیسے ادا کرے گا۔ابھیشیک نامی ایک سوار نے بتایا کہ اسے کچھ دن پہلے بوانا انڈسٹریل ایریا میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی ٹیم نے پکڑا تھا۔ چونکہ اسی دن سے پابندی لگائی گئی تھی، اسے وارننگ دے کر رخصت کر دیا گیا اور اس کے بعد سے ان کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ سواروں کا کہنا تھا کہ جب لوگ چاہتے ہیں کہ بائیک ٹیکسیاں چلیں اور حکومت بھی نئی پالیسی لانے کی بات کر رہی ہے تو پھر ان پر پابندی لگانے کا کیا فائدہ۔دریں اثناء آٹو ٹیکسی ڈرائیوروں کی ایک تنظیم نے ہفتہ کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک بائیک ٹیکسی ڈرائیور کو پکڑ کر جی آر پی کے حوالے کر دیا۔ وہ گریٹر نوئیڈا کی سواری کے لیے بکنگ لے رہا تھا۔ تبھی آٹو ڈرائیوروں نے اسے پکڑ لیا۔

