Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 28th Feb
کانگریس پارٹی کے 85ویں نیشنل کنونشن کے بعد سے، 2024کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اپوزیشن اتحاد کی بات زور شور سے اٹھنے لگی ہے۔چھتیس گڑھ کے رائے پور میں کانگریس کا سہ روزہ کنونشن 26 فروری کو اختتام پذیر ہوا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم خیالات اپوزیشن کا اتحاد بہت ضروری ہے۔کنونشن میں اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اس کے مطابق کانگریس پارٹی ہم خیال سیکولر جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس اپوزیشن اتحاد کا محور بن پائے گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کانگریس اس مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو کیا اپوزیشن اتحاد اتنا مضبوط ہو گا کہ وہ بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا مقابلہ کر سکے؟ یہ ایسے سوالات ہیں، جنھیں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
معروف سیاسی مبصر عاصم علی ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں کہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی نے 2003 کے شملہ اجلاس میں بھی اسی طرح کی قرارداد منظور کی تھی۔ تب سونیا گاندھی پارٹی کی صدر تھیں۔ انہوں نے 2004 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی مہم شروع کی۔ یقینی طور پر اس اتحاد نے اس سال کانگریس کی جیت میں بڑا رول ادا کیا تھا۔ اگرچہ یونائیٹڈ پروگریسو الائنس (یو پی اے) انتخابات کے بعد وجود میں آیا تھا، لیکن انتخابات سے پہلے اس کے اتحادیوں کی فہرست میں پانچ بڑے نام شامل کیے گئے تھے۔ این سی پی، ٹی آر ایس، ڈی ایم کے ،جے ایم ایم اور ایل جے پی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اتحاد کو ان جماعتوں کی اکثریت والی ریاستوں یعنی مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، جھارکھنڈ اور بہار میں 114 سیٹیں ملیں۔ یہ 2019 کی کل سیٹوں کا 52 فیصد تھا جو یو پی اے کے حصے میں آئی تھیں۔ تب کانگریس کی ان نئی اتحادی جماعتوں نے 46 سیٹیں جیتی تھیں۔ موجودہ سیاسی اور سماجی حالات کے پیش نظر عاصم علی کا کہنا ہے کہ 2004 کی تاریخ کو 2024 میں نہیں دہرایا جا سکتا ہے۔
عاصم علی کا ماننا ہے کہ 2004 کے بعد سے قومی سطح پر ملک کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ بی جے پی اپنے نظریات کو لیکر بہت آگے نکل گئی ہے۔ اس کا زور بہت بڑھ گیا ہے۔ 1989 اور 2014 کے دوران جب ساری مبینہ سیکولر جماعتیں اتحاد کا تجربہ کر رہی تھیں تب بی جے پی اپنی عوامی بنیاد بڑھانے میں لگی ہوئی تھی۔ پارٹی نے آہستہ آہستہ ہندوتوا اور قوم پرستی کے فارمولے پر اپنا مضبوط ووٹ بینک بنایا۔ ووٹروں پر بی جے پی کی گرفت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے مضبوط مخالف اتحاد کے باوجود 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کلین سویپ کیا۔ بی ایس پی اور ایس پی یوپی میں، کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس، جھارکھنڈ میں کانگریس، جے ایم ایم اور جے وی ایم اکٹھے ہوئے۔ اس کے باوجود بی جے پی نے 2014 سے بڑی جیت حاصل کی ہے۔ اسے لوک سبھا کی 43 فیصد سیٹوں کی اکثریت ملی۔ اس نے مختلف جماعتوں کے ووٹ فیصد کو ملا کر انتخابی نتائج کا تانا بانا توڑدیا تھا۔
بی جے پی کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اندازہ انڈیکس آف اپوزیشن یونٹی (آئی او یو) سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ 2019 میں، بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد اور بھی مضبوط ہوا اور اسے اس بار 85فیصد آئی او یو کا سامنا کرنا پڑا جو 2014 میں 64 فیصدتھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ پارٹی نے 2014 میں 282 کے مقابلے 2019 میں303 سیٹیں حاصل کیں۔عاصم علی کا ماننا ہے کہ اس بار بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کا اتحاد اس وقت خود اس کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہےجب عوام میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ یہ تمام موقع پرست جماعتیں اپنے مفادات کے لیے متحد ہوئی ہیں، ان کا قومی مفاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
بلا شبہہ ابھی تک کسی بھی اپوزیشن پارٹی میں مودی فیکٹر کا کوئی کاٹ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا اپنا ایک الگ ووٹ بینک ہے ،جو صرف ان کے چہرے پر ووٹ ڈالتا ہے۔ 2019 کے لوک نیتی سروے میں، ایک تہائی لوگوں نے کہاتھا کہ اگر مودی وزیر اعظم کا چہرہ نہ ہوتے تو وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیتے۔ ایسے میں جو لوگ سیاسی رہنما 2024 میں 2004 کی تاریخ دہرانے کا دعویٰ کر رہے ہیںانھیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 2004 میں اٹل بہاری واجپائی حکومت موجودہ مودی حکومت کے مقابلے بہت کمزور تھی۔ انھیں یہ جان کر اپنی تیاری کرنی چاہئے کہ تب ان کے سامنے اٹل۔اڈوانی کی بی جےپی تھی لیکن اگلے سال ان کا مقابلہ مودی ۔شاہ کی پارٹی سے ہے۔یعنی تب کی بات کچھ اور تھی، اس بار کی بات کچھ اور ہے۔
******************************

