Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 5th March
نئی دہلی ،05مارچ:بارڈر گواسکر ٹرافی 2023 میں ٹیم انڈیا کے سابق کپتان وراٹ کوہلی کی فارم تشویشناک ہے۔ رن مشین نے 3 میچوں کی 5 اننگ میں 22.20 کی اوسط سے 111 رن بنائے ہیں۔ وہ پانچوں اننگ میں اسپنرز کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے ہیں۔ وہ بھی ناتھن لیون جیسے تجربہ کار اسپنرز کے ذریعے نہیں بلکہ ٹوڈ مرفی اور میتھیو کوہن مین جیسے نوجوان گیند بازوں کے ہاتھوں، جنہوں نے اس سیریز میں ڈیبیو کیا۔ گزشتہ 3 سالوں میں کوہلی کے لیے اسپن ایک مسئلہ رہا ہے۔ سال 2020 سے اب تک وہ 41 اننگ میں 17 بار اسپن کے جال میں پھنس چکے ہیں۔
نومبر 2019 سے وراٹ کوہلی کی کارکردگی زوال پذیر رہی ہے۔ اس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری نہ بنانے کی تو بات ہی نہیں ۔ انہیں نصف سنچری بنائے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ جنوری 2021 سے ان کے بلے سے پچاس نہیں نکلے ہیں۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں 79 رن بنائے۔ اس کے بعد سے وہ 15 اننگ میں صرف دو بار 30 کا ہندسہ عبور کر پائے ہیں۔ وہ 11 بار ایل بی ڈبلیو ہو چکے ہیں۔
آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے پہلے ٹیم انڈیا نے بنگلہ دیش کے دورے پر 2 میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی۔ وہاں وہ 2 ٹیسٹ میچوں کی 4 اننگ میں صرف 45 رن ہی بنا سکے۔ انہیں 4 میں سے 2 اننگ میں اسپنرز نے آؤٹ کیا۔ وہ 1 اننگ میں ناٹ آؤٹ رہے۔ اس سے قبل وہ انگلینڈ میں کورونا کی وجہ سے ملتوی ہونے والے ٹیسٹ میچ میں بھی فلاپ ہو گئے تھے۔ انہوں نے پہلی اننگ میں 11 اور دوسری اننگ میں 20 رن بنائے۔
وراٹ کوہلی کی آخری سنچری نومبر 2019 میں ایڈن گارڈن میں بنگلہ دیش کے خلاف آئی تھی۔ انہوں نے اس میچ میں 136 رن بنا کر بھارت کو شاندار اننگ جیتنے میں مدد دی۔ یہ کوہلی کی 27ویں ٹیسٹ سنچری تھی۔ تب سے وہ اپنی 28ویں سنچری کا انتظار کر رہے ہیں۔ دسمبر 2019 سے ٹیسٹ کرکٹ میں 34 سالہ اسٹار بلے باز کی اوسط 25.70 ہے۔ انہوں نے 23 میچوں میں چھ نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔

