Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 9th March
پٹنہ: ۹؍مارچ۲۰۲۳ء : عالمی یوم خواتین منانے کا مقصد یہی ہے کہ جس کے وجود سے کائنات کی رنگارنگی ہے اور جسے عورت کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کے اصل مقام سے روشناس کرایا جائے اور جہاں کہیں بھی اس کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، اس کا تدارک کیا جائے۔ اسی مقصد کے پیش نظر خدا بخش لائبریری میں کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور ڈاکٹرکمار وملیندو سنگھ اور ڈاکٹر رنجیتا تیواری کو اس اہم موضوع پر خطاب کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنے تمہیدی کلمات میں فرمایا کہ خواتین کے حقوق و اختیارات سے سماج کو باور کرانا ضروری ہے کیونکہ آج عورتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ چل سکتی ہیں اور بہتر خدمات انجام دے سکتی ہیں۔اس نمائش میں عورتوں کے تعلق سے جو کتابیں پیش کی گئی ہیں، وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ عورتوں نے کیسے کیسے کارنامے انجام دئے ہیں اور مختلف شعبہ حیات کو اپنی مثبت اور تعمیری سوچ سے آئیڈیل بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج بھی عورت تنگ نظری کا شکار ہے۔ اس لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کی ذہنی آبیاری کی جائے تاکہ مستقبل میں بہتر نتائج سامنے آسکیں اور ماحول کی پراگندگی خوشگواری میں تبدیل ہو سکے۔
ڈاکٹر رنجیتا تیواری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، اگر عورتوں کے تعلق سے غلط طرز فکر جڑ پکڑلے تو ہمہ جہتی ترقی ممکن نہیں، عورتوں کو بھی اپنے مقام اور مرتبے سے واقف ہونا چاہئے تاکہ احساس کمتری کے اثرات پنپنے نہ پائیں۔ خاندان کی تشکیل میں عورت کا بڑا کردار ہوتا ہے، اس لئے عورتوں کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا نہایت ضروری ہے۔ عورتوں کی ناخواندگی کا پہلا اثر ان کے بچوں پر ہوتا ہے، اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی دھیان دیں۔ عورتوں کے حقوق و اختیار کو کبھی بھی سلب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ کسی ملک اور سماج کی تعمیر و ترقی میں جتنا مرد کا حصہ ہے اتنا ہی عورتوں کا حصہ ہے۔ خاندان کے بکھراؤ اور انتشار کی کی بنیادی وجہ عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی، حق تلفی اور تحقیر و تذلیل ہے۔ عورتوں کو بااختیار بنانے کے تعلق سے مختلف تحریکیں وجود میں آئیں، ان تحریکوں سے تھوڑی بہت بیداری ضرور آئی، اس تعلق سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ راہیں گرچہ آسان نہیں تھیں لیکن راہیں استوار ہوتی جارہی ہیں۔ آج عورتیں ان شعبوں میں جہاں مردوں کی اجارہ داری تھی، وہاں بھی ان کی حصہ داری ہے۔ عورتوں نے اپنے گھر کے دائرہ سے باہر نکل کر ہر شعبہ میں اپنی موجودگی درج کرائی ہیں۔ مرد اور عورت جب ساتھ ساتھ چلتے ہیں تو حسین آشیانہ کی تعمیر ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جن عورتوں نے نمایاں کارنامے انجام دئے ہیں، ان کا مطالعہ کرنا چاہئے، اس سے ہمارے اندر تحریک پیدا ہوگی۔
ڈاکٹر کماروملیندو سنگھ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ عورتوں کو برابری کا حق ضرور ملنا چاہئے، لیکن چونکہ وہ صنف نازک ہے اس لئے اس کی سُرکشا اور حفاظت کا خیال کرنا ہمیں لازم ہے۔سماج میں ادب اور تمیز کو بڑھاواملنا چاہئے۔ عورتوں کو خوشگوار ماحول دیا جائے تو وہ بہت کچھ کرسکتی ہیں۔ عورتوں کی آزادی کے تعلق سے جو تحریکیں اٹھیں وہ آگے چل کر غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئیں اور انھوں نے اس کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا، اگر برابری اور آزادی کا مطلب ننگا پن ہے تو میں بالکل اس کے حق میں نہیں ہوں۔ ہر جگہ عورتوں کی حصہ داری بڑھے، اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عورتوں نے ادب میں بھی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے، انھوں نے جو ادب کی تخلیق کی ہے، اس میں احتجاج کی لے بہت تیز ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بھی ادبا اور شعرا کی فہرست ترتیب دی جاتی ہے تو پہلی صف میں مرد ہی مرد نظر آتے ہیں، کالی داس جیسے مشہور شاعر کے زمانے میں کوئی خاتون ادیب اور شاعرہ نظر نہیں آتی، ایسا نہیں ہے کہ اس دور میں خواتین ادبا اور شعرا موجود نہیں تھیں، بلکہ ان کی تخلیقات کو محفوظ نہیں رکھا گیا۔ خدا بخش لائبریری میں بہت ساری کتابیں موجود ہیں، ان کے مطالعہ سے اس خلا کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے آگے فرمایا کہ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے ہر ادب میں عورتوں کو حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔ فیصلہ لینے کا حق عورتوں کو بھی ہے اور ان کو یہ حق ملنا چاہئے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عورتوں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ کسی اعتبار سے مردوں سے کم نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عورتیں بیک وقت دو طرفہ کام کرتی ہیں گھر بھی اور دفترمیں بھی۔ عورتوں کو ہر شعبے میں اپنی موجودگی درج کرانی چاہئے لیکن ادب اور تہذیب کے ساتھ، آزادی کا مطلب ننگاپن ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ آزادی بے شک ملنی چاہئے، تاکہ وہ کھل کر سامنے آسکیں اور اپنے جوہر (ہنر و فن) کو دکھا سکیں لیکن تہذیب کا ہونا بھی ضروری ہے کیوں کہ عورت اور تہذیب دو الگ باتیں ہیں۔ آج Families Unitaryہو گئی ہیں جب کہ Colonial Familiesکے اپنے بڑے فائدے تھے کہ بچے بزرگوں کے ساتھ رہ کر پلتے تھے، رشتوں کو سمجھتے تھے اور ان کی تہذیب خود بخود پنپتی تھی۔ آج Socio-emotional factors کی جو کمی دیکھی جاتی ہے وہ اسی Families Unitaryکی دین ہیں۔
اخیر میں ڈائرکٹر صاحبہ نے اس پر خاتمہ کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا جانا چاہئے اور غریب اور نادار بچیوں کی تعلیم اور ان کے کھان پان پر ہونے والے صرفہ کی ذمہ داری خود پر لے کر ان کو آگے بڑھانے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر بھیرو لال داس نے بتایا کہ انھوں نے ۲۰؍ لڑکیوں کو سائیکل سکھائی تاکہ گھر سے میلوں دور اسکول میں جاکر تعلیم حاصل کرسکیں۔اس موقع پرشری پنکج،ڈاکٹر شتروگھن ، ڈاکٹر بھیرو لال داس وغیرہ نے اس میں حصہ لیا۔

