Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11th March
اقوام متحدہ ،11مارچ : اقوام متحدہ نے کئی ہفتوں کی بحث کے بعد کہ آیا افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی کارروائیو ں کو معطل کر دیا جائے یا اس میں کمی کی جائے ، جمعرات کو چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی ایک اپیل جاری کر دی تاکہ اس سال 23 ملین سے زیادہ معاشی اعتبار سے انتہائی کمزور افغان شہریوں کی مدد کی جا سکے۔انسانی ہمدردی کی اپیل گزشتہ سال جنوری کے اوائل میں تیار کی گئی تھی لیکن 24 دسمبر کو موجودہ طالبان حکام کی جانب سے خواتین امدادی کارکنوں پر پابندی کے اعلان کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی زیر قیادت امدادی کمیونٹی نے اپنی کارروائیاں جزوی طور پر معطل اور کئی بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں نے احتجاج کے طور پر اپنی کارروائیاں مکمل طور پر روک ر دیں۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان امدادی کام پر صنفی پابندی کب ختم کریں گے، اقوام متحدہ نے یہ کہتے ہوئے فنڈز کی اپیل جاری کر دی ہے کہ انسانی ہمدردی کے پروگرام اگلیچھ ماہ کے لیے تجرباتی طور پر انجام دیے جائیں گے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت پر پابندی کے تمام ضرورت مندوں پر تباہ کن اور دیر پا اثرات ہوں گے لیکن خاص طور پر خواتین اور لڑکیو ں پر جو پہلے ہی معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہیں۔افغانستان میں صنفی بنیاد کے انسانی ہمدردی کے بحران کیباعث اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگر اپیل میں پیش کی گئی فنڈنگ دستیاب ہوئی تو 11 ملین سے زیادہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو خوراک ، صحت ، پناہ گاہوں اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کی جائے گی۔اقوام متحدہ میں افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ روزا اوتن بایاف نے بدھ کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس وقت افغانستان خواتین کے حقوق کے حوالے سے بدستور دنیا کا سب سے استبدادی ملک ہے۔

